آئی ایم ایف کے بعد عالمی بینک بھی میدان میں، مطالبے پیش،

اسلام آباد(غلا م مرتضٰی)آئی ایم ایف کے بعد عالمی بینک نے بھی مطالبات پیش کردئیے،زرائع وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی و صوبائی ٹیکس اکٹھا کرنیوالی تمام کمپنیوں کو ضم کرکے ایک جی ایس ٹی ایجنسی بناننے کا مطالبہ سامنے آیا ہے، ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی اخراجات کو اٹھارویں ترمیم کے تحت ہم آہنگ کیا جائے، این ایف سی ایوارڈ کے تحت ٹیکس رجیم کوبہتر کیا جائے، قومی مالیاتی پالیسی اپناتے ہوئے زراعت، کیپٹل گین اور رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس لگائے جائیں، عالمی بینک کا کہنا ہے کہ5 سالوں میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب کو 15 فیصد تک بڑھانے کےلیے اقدامات کئے جائیں۔ وفاقی اور صوبائی سطحوں پر نئے مالیاتی ذمہ داری اور قرض کی حد بندی کے ایکٹ کا نفاذ کیا جائے،مالی سال 2025 کے بجٹ کے عمل کے ذریعے قومی وسط مدتی مالیاتی فریم ورک کو نافذ کیا جائے۔جی ایس ٹی پورٹل کے ذریعے فیڈریشن اور فیڈریٹنگ یونٹس میں جی ایس ٹی ہم آہنگی پر ٹھوس پیشرفت کا مطالبہ بھی کیا ہے، کہا گیا ہے کہ شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس، زرعی انکم ٹیکس، اور کیپٹل گین ٹیکس ،زراعت اور رئیل اسٹیٹ پر نفاز کا جائزہ لے، عالمی بینک نے ہم آہنگ ویلیویشن ٹیبلز رینٹل ویلیو کے اطلاق کا مطالبہ کیا ہے ،افراط زر، انشورنس ویلیویشن، اور سیلز ریکارڈز کی بنیاد پر سالانہ اپ ڈیٹ کیا جائے .مالک اور کرایہ دار کے ریٹس کے درمیان برابری کی جائے۔زمین کے رقبے کی تعریف کو یکساں بنایا جائے، زمینوں کے حجم کی بنیاد پر چھوٹ پر نظر ثانی کرے .ٹیکس کو فصلوں کے رقبے یا پیداوار کے تخمینے کی بنیاد پر مقرر کیا جائے، کیپیٹل گین ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس، اسٹامپ ڈیوٹی، ودہولڈنگ ٹیکس کے شرح کے ڈھانچے کو آسان بنائیں جبکہ عالمی بینک نے ٹیکس بیس کو بڑھانے، ترقی کو بہتر بنانے اور وسیع تر ریونیو اصلاحات کی تجویز دی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں