آپ سگریٹ نہیں پیتے، سگریٹ آپکوپیتا ہے

پاکستان میں تمباکو نوشی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے روایتی اقدامات اور حکمت عملیاں اپنی انتہائی سطح کو پہنچ چکے ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ تمباکو نوشی پر کمی کے حوالے سے جدید ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سٹریٹیجی کو اپنایا جائے۔ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کی جدید حکمت عملی اپنانے سے پاکستان میں 12لاکھ سے زائد قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔جبکہ ریسرچ اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت تمباکو کے کم نقصان کے پروڈکٹس سے80 فیصد کم نقصان اور تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات میں 70 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار معروف محقق اورہیلتھ پالیسی مشیر ڈاکٹر محمد رضوان جنید نے مقامی ہوٹل میں ‘ارادا’کے زیر اہتمام’بریک تھرو سائنس’کے عنوان سے تمباکو کے کم نقصانات کی حکمت عملی کے حوالے سے منعقدہ گول میز مباحثے کے شرکاء سے کیا۔
ڈاکٹر رضوان جنید نے مزید بتایا کہ برطانیہ کے بین القوامی ادارے کی ٹوبیکو ہارم ریڈکشن حکمت عملی کا پاکستان، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور قازقستان میں تمباکو نوشی میں کمی کے اثرات کے حوالے سے حالیہ ریسرچ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کی جدید حکمت عملیوں ومتعلقہ طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے قیمتی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
تمباکوکے کم نقصان والے جدید طریقہ کار کے استعمال سے اگلی چار دہایوں میں قازقستان میں ایک لاکھ پینسٹھ ہزار، جنوبی افریقہ میں تین لاکھ بیس ہزار، بنگلہ دیش میں نو لاکھ بیس ہزار اور پاکستان میں بارہ لاکھ افراد کی قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر مائیرین صحت نے کہا کہ حکومت پاکستان کو تمباکو نوشی میں کمی کے حوالے سے موجودہ پالیسیوں میں جدت لانے کی ضرورت ہے اور حکومت کو چاہیے کہ تمباکو نوشی میں کمی کے پالیسی میں بین القوامی طرز پر جدید ٹوبیکو ہارم ریڈکشن حکمت عملی کو شامل کر کے اس سے فائدہ اٹھایا جانا چاہے۔
ڈاکٹر رضوان جنید نے مزید کہا کہ پچھلے دو دہاہیوں میں بایوٹیکنالوجی، فارماسیوٹکل میں جدید ریسرچ کی بدولت تمباکو کے کم نقصان والے پراڈکٹس کی تیاری ممکن ہوئی ہے جنہیں امریکہ کی فوڈ اور ڈرگ اینڈامنسٹریشن نے بھی عوامی صحت کی حفاظت کے لیے مناسب قرار دیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں 112 ملین افراد جدید تمباکو کے کم نقصان والے پراڈکٹس استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف یورپی ممالک میں ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سٹریٹجی کے کامیاب استعمال سے تمباکونوشی کے اعدادوشمار میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے تمباکو نوشی سے متعلقہ اموات میں بھی کمی ممکن ہوئی۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں