ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی پارلیمنٹیرینز کے ساتھ مشاورت، کاربن مارکیٹس گورننس میں بہتری کے لیے حکمت عملی پیش

اسلام آباد (عمر فریدون): ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمانی قانون سازوں کے ساتھ ایک مشاورت کا انعقاد کیا۔ اعلیٰ سطح کی اس مشاورت کا مقصد کاربن مارکیٹس کے حوالے سے اس کی قانون سازی اور پاکستان کی تیاری کو بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی پیش کرنا تھا۔ مشاورت میں بتایا گیا کہ پاکستان نے کاربن مارکیٹس ٹریڈنگ کے حوالے سے دسمبر 2024 میں پالیسی گائیڈ لائنز پیش کی تھیں جو ایک اہم سنگ میل تھا۔ تاہم ملکی کاربن مارکیٹس کا تجزیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صرف پالیسی گائیڈ لائنز ناکافی ہیں، اس شعبے میں قانونی قطعیت، ڈیٹا کی سالمیت، اور قابل نفاذ حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے اور یہاں پر پارلیمنٹ کا کردار واضح ہوتا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی پیش کردہ حکمت عملی چار حصوں پر مشتمل ہے، جس میں کاربن کریڈٹس کو بطور قانونی اثاثہ تسلیم کیے جانا بھی شامل ہے۔ اس کے لیے پارلیمنٹ سے کاربن مارکیٹس فریم ورک ایکٹ سے منظوری ضروری ہے۔ اس ایکٹ میں ملکیتی قوانین، پبلک، پرائیوٹ اور کمیونٹی کریڈٹس میں تفریق، اور معاہدوں، ٹیکس اور تنازعتی مصالحت کی وضاحت کی جانی چاہیئے۔ مشاورت میں اس پر بھی زور دیا گیا کہ قومی سطح پر مانیٹرنگ، رپورٹنگ اور ویریفیکشن کا نظام قائم ہو جو پیرس ایگریمنٹ کے آرٹیکل 6 کے مطابق ہو، جبکہ بینیفٹ شیئرنگ اور کمیونٹیز کے مفادات کا بھی تحفظ ہو۔
مشاورت کے دوران ماہرین نے واضح کیا کہ کاربن مارکیٹس کے شعبے میں پارلیمانی حمایت سرمایہ کاروں کے تحفظات کو دور کرے گی، پاکستان کے این ڈی سی اہداف مکمل ہوں گے، اور اس میدان میں پاکستان ایک مضبوط میزبان کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف علی کا کہنا تھا کہ پاکستان کاربن مارکیٹس کے شعبے میں بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ پالیسی کے مکمل اور بھرپور نفاذ اور اسے قانونی حیثیت دینے سے پارلیمنٹ ملک کو ملنے والے کلائمٹ فنانس کے مواقعوں میں اضافہ کرسکتی ہے، پاکستان کے کلائمٹ اہداف کو پورا کرسکتی ہے، اور پاکستان بطور ملک ایک مضبوط کاربن مارکیٹ لیڈر کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔
مشاورت کے اختتام پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کلائمٹ چینج کی چیئر پرسن، منزہ حسن نے کہا کہ کاربن مارکیٹس اور کلائمٹ فنانس کے شعبے کومضبوط بنانے کے لیے پارلیمنٹ اہم کردار ادا کرسکتی ہے اور یہ اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے کاربن مارکیٹس اور کلائمٹ گورننس کے شعبوں میں پارلیمنٹیرینز کو شامل گفتگو بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں