ٹیلی کام سیکٹر بحران میں، ایل ڈی آئی آپریٹرز کے 80 ارب روپے واجبات التوا کا شکار
اسلام آباد (غلام مرتضی) ایل ڈی آئی آپریٹرز کی جانب سے 2009، 2010 اور 2011 سے واجب الادا اے پی سی واجبات کی 80 ارب روپے کی ادائیگی مزید تاخیر کا شکار ہوگئی ہے، جس کے باعث ٹیلی کام سیکٹر کے مستقبل پر گہرے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پی ٹی اے کی خاموشی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق نادہندہ کمپنیاں ادائیگیوں اور تصفیے سے مکمل لاتعلق ہوگئی ہیں اور مالی مفاد کے لیے عدلیہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ گزشتہ برس کی لائسنس فیس بھی ادا نہیں کی گئی۔
پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ کمپنیاں بغیر لائسنس غیر قانونی کاروبار کر رہی ہیں اور عدالتوں سے اسٹے آرڈر لے کر سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے باعث نہ صرف قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے بلکہ بیرونی سرمایہ کار بھی پاکستان آنے سے گریز کر رہے ہیں۔پی ٹی اے نے گزشتہ برس 6 کمپنیوں کو 30 دن میں بقایاجات ادا کرنے کی ہدایت کی تھی اور قانونی فورمز سے رجوع کرنے سے بھی منع کیا تھا۔ تاہم ریڈ ٹون، وطین اور ٹیلی کارڈ معاملہ سندھ ہائیکورٹ لے گئے۔
پی ٹی اے نے وطین ٹیلیکام کو 6.25 ارب روپے، جبکہ ریڈ ٹون کو 14.31 ارب روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم کمپنیوں نے نہ صرف ادائیگیاں مؤخر کیں بلکہ فیصلوں کو بھی عدالت میں چیلنج کردیا۔ آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص گورننس اور عدالتوں کے ذریعے وقت حاصل کرنے کی پالیسی نے پاکستان کو عالمی سطح پر منفی مثال بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں 5G کے اجرا اور مارکیٹ میں نئے کھلاڑیوں کی شمولیت تقریباً ناممکن دکھائی دیتی ہے۔












