بحریہ ٹاؤن اور ریونیو ایمپلائز ہاوسنگ سوسائٹی کیس،پیسے کمانے ہیں تو کمائیں شہیدوں کے نام مت بیچیں،چیف جسٹس

اسلام آباد(غلام مرتضی )سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن ایک نجی (ریونیو ایمپلائز )ہاوسنگ سوسائٹی سے معاہدہ کے کیس کی سماعت ہوئی، معاملہ کی نوعیت کو دیکھتے ہوئےچیف جسٹس نے مقدمہ کو لائیو چلانے کی ہدایت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ یہ لوگ بہت طاقتور ہیں.انہوں نے سب خریدا ہوا ہے.میڈیا پر بھی انکے خلاف خبر نہیں چلتی .چیف جسٹس نے کہا کہ ایک معاملہ میں تین مرکزی کردار ہیں
پرویز مشرف ،پرویز الہی ،بحریہ ٹاؤن ،زاہد رفیق یہ تینوں اس کیس کے مرکزی کردار ہیں.یہ ہیں پاکستان کے اصل مالک.بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے کے وکیل نے مقدمہ لایئو چلانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ عدالت پہلے ہمیں سن لے. حسن رضا پاشا نے کہا کہ بعد میں اسکا فیصلہ کیجئیے کہ یہ لائیو ہوگا یا نہیں،جسٹس عرفان سعادت نے استفسار کیا کہ ڈی ایچ اے ہاوسنگ اتھارٹی تو شہدا کیلئے بنائی گئی تھی .کیا ڈی ایچ اے صرف شہدا کیلئے کام کر رہا ہے. وکیل ڈی ایچ اے نے کہا کہ اس منصوبے میں کمرشل پلاٹس بھی ہوتے ہیں .جسٹس عرفان سعادت نے مزید استفسار کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ یہ زمین عسکری فورٹین کو پلاٹ بنا کر بیچ دی ؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی ڈی ایچ اے کے جوابات پر شدید برہم ہوئے اور کہا کہ پیسے کمانے ہیں تو کمائیں شہیدوں کے نام مت لیں۔ سیدھا سادا دھندہ کررہے ہیں . پیسہ کمانا تو کمائیں شہدوں کو بیچ میں مت لائیں .شہدا کے نام لے کر تذلیل مت کریں .شہدا کا نام لے کر کتنا نکالیں گے .یہ ڈیل سیکرٹ کیوں ہوئی.؟ وکیل نے بتایا کہ ڈیل سیکرٹ نہیں تھی ، چیف جسٹس نے کہا کہ پھر مجھے اس کی کوئی اخباری خبر دکھا دیں.جسٹس عرفان سعادت نے پوچھا کہ بحریہ ٹاؤن نے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی سے زمین خرید کر ڈی ایچ اے کو فروخت کی؟ اور اس پر ڈی ایچ اے نے عسکری 14 بنا دیا،کیا درست ہے؟ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ڈی ایچ اے کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی 2005 میں صدارتی آرڈر کے تحت قائم ہوئی،ڈی ایچ اے شہداء کے ورثا اور جنگ میں ہونے والے زخمیوں کو پلاٹس دیتا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ شہدا کے نام کے پیچھے چھپ کر دھندا چلا رہے ہیں .شہدا کا نام استعمال کر کے انکے نام پر پیسہ بنا رہے ہیں ،اپ انکی عزت نہ کریں ہم شہدا کی عزت کریں گے،کتنا رس نکالیں گے شہدا کے نام کا؟چیف جسٹس نے مزید کہا کہ یہ گیم ہم نے بہت بار دیکھا ہے،وزیر اعلیٰ کون ہوتا ہے زمین الاٹ کرنے والا؟کیا وزیر اعلیٰ کا اختیار ہے؟ایسٹ انڈیا کمپنی نے ایسا نہیں کیا جیسا وزیر اعلیٰ کر رہے ہیں
بحریہ ٹاؤن کا تو پوچھیں ہی مت وہ تو پاکستان چلا رہے ہیں .ریاست بھی بحریہ ٹاؤن کیساتھ کھڑی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ اسکو دھندہ نہیں کہتے تو کیا کہتے ہیں ؟جب یہ معاہدہ ہوا اس وقت آرمی چیف کون تھا؟
اس وقت پرویز مشرف ارمی چیف تھے،یہ ہیں ہمارے سپی سالار ؟وزیر اعلیٰ کون تھا؟ چوہدری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ تھے،پاکستان کے اصل مالک ہی یہ لوگ ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعلی کون ہوتا ہے ایسا معاہدہ کروانے والا، ایسٹ انڈیا کمپنی میں بھی ایسے نہیں ہوتا تھا،

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں