بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مارچ میں پولیس اور مظاہرین کے ساتھ جھڑپ میں 283 مظاہرین گرفتار ہوئے، پولیس رپورٹ
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی )بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاج کا معاملہ پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے خصوصی رپورٹ مرتب کر لی گئی، رپورٹ کے مطابق 8 گاڑیوں میں 250 سے زائد 12 بچوں اور 45 عورتوں کے ہمراہ پشاور ٹول پلازہ پہنچے، ایس ایس پی آپریشنز اور ایس پی صدر کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کیے گیے،پولیس کی جانب سے مظاہرین کو احتجاج کےلیے ایچ نائن کی جگہ آفر کی گئی، رپورٹمظاہرین کو ایف نائن پارک میں رکنے کا آپشن بھی دیا گیا لیکن وہ نہ مانے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین زبردستی اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوئے اور 26 نمبر چونگی پر دھرنا دیکر سڑک بلاک کر دی، مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہونے کے لیے بضد رہے،
دوسری جانب سے 250 مظاہرین کی جانب سے نیشنل پریس کلب کے سامنے سڑک بلاک کر دی گئی، ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس پی سٹی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے جو ناکام رہے،مظاہرین کو آگاہ کیا گیا کہ اسلام آباد میں جلسے جلوس کے انعقاد پر پابندی ہے، میرٹ ہوٹل جانے کی کوشش میں نوجوانوں کی جانب سے اسلام آباد پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، پولیس پر چونگی 26 پر بھی مظاہرین کی جانب سے شدید پتھراؤ کیا گیا، پولیس کی جانب سے مظاہرین کو گرفتار کیا گیا اور کوئی زخمی نہ ہوا، طبعیت بگڑنے پر مظاہرین میں شامل ایک خاتون کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا، پولیس کی جانب سے مجموعی طور پر 283 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، دوران آپریشن 14 مظاہرین اور 3 پولیس اہلکاروں کو معمولی زخم آئے،











