بینظیر بھٹو اسپتال میں چلڈرن وارڈ میں آکسیجن کی کمی کے باعث نوزائیدہ بچوں کی جان کو خطرہ لاحق
راولپنڈی:(اویس مصطفی )بینظیربھٹو اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آکسیجن کی کمی کے باعث نوزائیدہ بچوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا۔بینظیربھٹو اسپتال کا طبی عملہ آکسیجن کی کمی کے باعث پریشان ہے اور اسی حوالے سے چلڈرن وارڈ کے ڈاکٹر اور ایک والدہ کی ویڈیو منظرعام پر آئی۔ویڈیو منظر عام پرآنے کےبعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس پر ایکشن ہوتا لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے، ڈاکڑوں اور پیرامیڈکس کی انکوائری شروع کردی گئی ہے کہ ویڈیو لیک کیسے ہوئی، اسپتال کی اصل حالت کا عوام کو پتہ کیسے چلنے دیا گیا، تاہم اس ویڈیو میں ڈاکٹر نے بتایا کہ سرکاری اسپتال میں حکومت نے 4 بیڈ دیے ہیں، پانچواں مریض کہاں رکھیں، حکومت نے جو سہولیات دی ہیں اس میں 2گنا زائد مریض ایڈجسٹ کر رہے ہیں۔ڈاکٹر نے کہا کہ کسی نئے بچےکو آکسیجن دینی ہے تو دوسرے سے اتارکر دینی پڑتی ہے۔ڈاکٹر نے والدین سے کہا کہ وہ ہم سے لڑنے کے بجائے حکام سے شکایت کریں۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہےکہ ہولی فیملی اسپتال کی تعمیر نو کی وجہ سے بینظیربھٹو اسپتال میں رش بڑھ گیا ہے جس کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں نرسری وارڈ بھر گئے ہیں۔











