ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پھانسی کے فیصلے میں آئینی وقانونی تقاضے پورے نہیں‌کئے گئے،سپریم کورٹ

اسلام آباد(غلام مرتضٰی)سپریم کورٹ نے شہید زوالفقار علی بھٹؤ کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس میں فیصلہ دیا ہے کہ بھٹو کے خلاف آمریت میں چلایا گئے کیس میں آئینی، قانونی تقاضے پورے نہیں‌کئے گئے، فیصلہ کو منسوخ نہیں کرسکتے کیونکہ فیصلہ اور اپیل حتمی طور پر طے ہوچکی ہے، سپریم کورٹ نے متفقہ رائےدی ہے کہ تاریخ میں غلط فیصلے ہوتے رہے ہیں، انکو درست کرنا ضروری ہے، جب تک غلطیوں کو تسلیم نہیں‌کرتے خود کودرست نہیں‌کرسکتے،ماضی کی غلطیوں‌کودرست کرنے کےلیے فیصلہ سنا رہے ہیں،واضح رہے کہ صدر پاکستان کی جانب سے زوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلے پر ریفرنس فائل کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ سے رائے مانگی گئی تھی کہ تاریخ درست کی جائے تاکہ پھانسی پر قائد عوام شہید زوالفقار علی بھٹو کو بری کیا جاسکے.سپریم کورٹ کی رائے تمام 9 ججز کی متفقہ ہے، ججز قانون کے مطابق ہر شخص کیساتھ یکساں انصاف کے پابند ہیں، عدالت نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کیلئے کوشاں ہیں، کسی حکومت نے پیپلزپارٹی کی حکومت کا بھیجا گیا ریفرنس واپس نہیں لیا، ذوالفقار علی بھٹو کی سزا آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے مطابق نہیں تھی، ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل شفاف نہیں تھا، ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کا فیصلہ تبدیل کرنے کا کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں، ریفرنس میں پوچھے گیا دوسرا سوال واضح نہیں اس لئے رائے نہیں دے سکتے، ریفرنس میں پوچھے گیا دوسرا سوال واضح نہیں اس لئے رائے نہیں دے سکتے، ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کا فیصلہ تبدیل کرنے کا کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں، ریفرنس میں مقدمہ کے شواہد کا جائزہ نہیں لے سکتے، چوتھا سوال سزا کا اسلامی اصولوں کے مطابق جائزہ لینے کا تھا، اسلامی اصولوں پر کسی فریق نے معاونت نہیں کی، اسلامی اصولوں کے مطابق فیصلہ ہونے یا نہ ہونے پر رائے نہیں دے سکتے،

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں