شناختی کارڈ کی تجدیدپر نادرا کی جانب سے شہریوں کے لئے اہم ہدایات
اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ): پاکستان کے مروجہ قوانین کے تحت نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) شناختی دستاویزات کو ایک معین مدت کے لیے جاری کرتی ہے۔ ہر بالغ شہری پر لازم ہے کہ وہ اپنی شناختی دستاویزات، بالخصوص قومی شناختی کارڈ، کی میعاد ختم ہونے سے قبل بروقت تجدید کو یقینی بنائے۔ بصورتِ دیگر ان دستاویزات سے منسلک بنیادی خدمات مثلاً بینک اکاؤنٹس، موبائل فون سمز اور دیگر تصدیقی سہولیات متاثر یا معطل ہو سکتی ہیں۔
مزید برآں، ایسے شہری جن کے شناختی کارڈ کی مدت ختم ہو چکی ہو، وہ مختلف سرکاری و فلاحی پروگراموں، مثلاً بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، حکومتی سبسڈی سکیموں مثلاً حالیہ اعلان کردہ فیول سبسڈی سکیم، نیز جائیداد اور گاڑیوں کی منتقلی جیسی سہولیات سے بھی مستفید نہیں ہو سکتے، جس کے نتیجے میں انہیں غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ قانون کے تحت تاخیر سے تجدید پر نادرا کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اضافی فیس یا جرمانہ عائد کرے، تاہم عوامی سہولت کے پیشِ نظر اس پر فی الحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
نادرا کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دو کروڑ چوہتر لاکھ پچھتر ہزار قومی شناختی کارڈز، تئیس لاکھ نو ہزار اوورسیز کارڈز، ایک کروڑ سولہ لاکھ پچاس ہزار بچوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس اور دو لاکھ انتیس ہزار جووینائل کارڈز کی میعاد ختم ہو چکی ہے اور شہریوں نے ان کی تجدید نہیں کروائی۔ اس ضمن میں شہریوں کو بذریعہ ایس ایم ایس نادرا کی طرف سے یاد دہانی بھی کروائی جا چکی ہے، جن میں بالخصوص ایسے والدین بھی شامل ہیں جن کے بچے اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں مگر انہوں نے تاحال اپنا پہلا شناختی کارڈ حاصل نہیں کیا۔
مزید برآں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی 8 اپریل کو جاری کردہ ہدایات کے مطابق موبائل خدمات کے تسلسل کے لیے صارفین کے شناختی کارڈ کا فعال ہونا ضروری ہے۔ ایسی موبائل سمیں جو ان شناختی کارڈز پر رجسٹرڈ ہوں جن کی میعاد ختم ہو چکی ہو یا کسی متوفی کے نام پر ہوں، کسی بھی وقت بلاک کی جا سکتی ہیں۔ اس وقت تقریباً اکیاسی لاکھ سے زائد موبائل سمز ان پینتالیس لاکھ شناختی کارڈز پر فعال ہیں جن کی تجدید ضروری ہے۔ ان میں سے دو لاکھ تیئس ہزار سے زائد شناختی کارڈز کو اپنی مدت پوری کیے ہوئے بھی دس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ان کی تجدید نہیں کروائی گئی۔ لہٰذا صارفین کو چاہیے کہ وہ موبائل فون سروسز کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بروقت شناختی کارڈز کی تجدید کروائیں اور تقریباً پندرہ لاکھ وہ موبائل سمز جو اب بھی شہریوں کے متوفی رشتہ داروں کے نام پر چل رہی ہیں، انہیں اپنے نام پر منتقل کروائیں۔
تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایکسپائر شدہ شناختی دستاویزات کی فوری تجدید کروائیں اور ایسے افراد جن کی عمر اٹھارہ سال سے زائد ہو چکی ہے، ان کے شناختی کارڈ کے اجرا کو یقینی بنائیں۔ اس مقصد کے لیے قریبی رجسٹریشن مراکز، پاک آئی ڈی موبائل ایپلیکیشن یا نادرا ای سہولت فرنچائز پر دستیاب سہولیات سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر دستاویزات کی تجدید کے اعداد و شمار اور رجحان میں تبدیلی نہ آئی تو جون کے بعد اگلے مالی سال میں ان شہریوں کو تاخیر سے شناختی دستاویزات حاصل کرنے یا تجدید کروانے کی صورت میں اضافی فیس اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔











