طالبان سربراہ کا حکومت کو قانونی جواز دینے کے لیے لویہ جرگہ بلانے کا فیصلہ

کابل(نمائندہ خصوصی) طالبان کے رہنما ملا ھب اللہ اخوندزادہ نے فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان میں قبائلی شیوخ اور علما کے لیے ایک بڑا قبائلی اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ داخلی جواز حاصل کیا جا سکے اور طالبان سے وابستہ اس نگران حکومت کے بجائے مستقل حکومت کے قیام کا اعلان کیا جائے جس کا اعلان اگست 2021 میں کیا گیا تھا۔یہ مجوزہ اجلاس تاریخی طور پر افغانستان میں لویہ جرگہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک قومی قبائلی اجلاس ہے جسے افغان حکومتیں ملک میں نئی حکومتیں قائم کرتے وقت بلاتی ہیں۔ یہ دوسرے ممالک میں ہونے والے قومی مکالمے کی طرح کا اجلاس ہے۔ طالبان رہنما کے دفتر نے حکام اور ریاستی گورنروں کو ہدایت کی کہ وہ عید الفطر کے بعد اجلاس میں شرکت کے لیے لوگوں کو منتخب اور نامزد کریں۔
ذرائع نے مزید کہا ہے کہ اس ملاقات کے ذریعے ملا ھب اللہ اخوندزادہ طالبان حکومت کو قانونی حیثیت دینا، خود کو افغانستان کا حکمران بنانا اور حکومت کو عارضی سے مستقل حکومت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایک جامع حکومت کے قیام کے اندرونی اور بیرونی مطالبات کو پورا کیا جا سکے اور حکومت میں طالبان کے دائرے سے باہر کے عہدیدار بھی شامل کیے جائیں۔ذرائع کے مطابق تمام افغان علاقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے 1,300 سے زائد افراد اس لویہ جرگہ میں شرکت کریں گے۔ ہر علاقے سے 3 افراد کا انتخاب کیا جائے گا۔ ان تین افراد میں ایک عالم، ایک قبائلی شیخ اور ایک نوجوان نمائندہ شامل ہوگا۔طالبان رہنما نے حکم دیا ہے کہ علما کونسل کے سربراہان اور ارکان جن کو انہوں نے افغانستان کے ہر صوبے میں نصب کرنے کا حکم دیا ہے قبائلی اجلاس میں شرکت کریں۔
العربیہ اور الحدث کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لویہ جرگہ کے اجلاس کی صحیح تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن اس کا ایجنڈا، کمیٹیوں کی تشکیل اور شرکا کے انتخاب اور منظوری کا عمل قندھار میں طالبان رہنما کے دفتر کی جانب سے انجام دیا جائے گا۔طالبان رہنما کے دفتر نے صوبوں کے گورنروں کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ شرکا اور کمیٹیوں کے نام تجویز کریں تاکہ ان کی قندھار سے منظور دی جائے یا نامنظوری کی جائے۔ باخبر ذرائع کے مطابق طالبان رہنما ھب اللہ طالبان کی حکومت کو قانونی حیثیت دینے اور اس سے “عبوری” کی اصطلاح کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ کہ بین الاقوامی برادری کے سامنے اس میٹنگ کے نتائج پیش کرنا چاہتے کہ وہ افغان قومی اجلاس کی بنیاد پر اندرونی قانونی حیثیت حاصل کرتے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق ملا ھب اللہ حکومت پر اپنا مکمل کنٹرول بڑھانا چاہتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں