غزہ پر مکمل کنٹرول کا اسرائیلی منصوبہ، سویڈن کی بھی مذمت
سٹاک ہوم (نمائندہ خصوصی )سویڈن کی وزیر خارجہ نے اسرائیل کے اس منصوبے کی مذمت کی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں اپنے بیان میں وزیر خارجہ نے کہا ایسا اسرائیلی منصوبہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سویڈن جس نے فلسطینی ریاست کو 2014 میں ہی تسلیم کر لیا تھا ۔ اس کی وزیر خارجہ ماریہ مالمر سٹینر گارڈ نے اپنے رد عمل میں کہا ‘ اگر اس قبضے اور فتح کا مطلب الحاق ہے تو یہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہوگا ۔انہوں نے مژید کہا سویڈن اپنے اس عقیدے پر قائم ہے کہ غزہ کے علاقے کو تبدیل یا کم نہیں کیا جاسکتا ہے۔
‘سویڈن کی وزیر خارجہ نیاسرائیل پر بھی زور دیتے ہوئے کہا وہ غزہ کے لیے انسانی امداد کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے، جیسا کہ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ غزہ علاقے میں 20 لاکھ افراد بھوک سے مر رہے ہیں۔ ہم نے باربار اسرائیل کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کے اصولوں کے مطابق بلا روک ٹوک امداد و خوراک کی غزہ میں رسائی ممکن بنائے اور خوراک کی تقسیم پر عائد پابندی ختم کرے۔انہوں یہ بھی مطالبہ کیا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی جائے اور انسانی بنیادوں پر بھجوائی جانے والی امداد کی ترسیل پر عائد کردہ اسرائیلی پابندی ختم کی جائے۔ نیز قیدیوں کو بھی رہا کی جائے۔ بجائے اس کے کہ اسرائیل غزہ پر قبضے اور تباہی کا سلسلہ مزیدبڑھاتا جائے۔












