غیر قانونی شعبے کے خلاف مؤثر کارروائیوں کا تسلسل کھوئی ہوئی آمدن کی بحالی کے لیے ناگزیر

اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ) : غیر قانونی سگریٹ تجارت کے خلاف انفورسمنٹ کارروائیوں میں تسلسل اور مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا انتہای اہم ہے۔ اس بات کا اظہار اسلام آباد میں منعقدہ ایک میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے حکام نے غیر قانونی تمباکو سیکٹر کے خلاف حالیہ حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی حکام کے مطابق 2025 کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 17 ارب سگریٹ اسٹکس اور خام مال ضبط اور تلف کیا گیا، جو غیر قانونی سگریٹ تجارت کے خلاف ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی سگریٹ سیکٹر غیر معمولی حد تک بڑھ چکء ہے، جس کے باعث قوانین کا نفاذ سختی اور تسلسل سے ناگزیر ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ غیر قانونی سگریٹ بنانے والوں نے اپنے طریقۂ کار کو تبدیل کر لیا ہے۔ اب غیر قانونی سگریٹ سازی کرنے والے عناصر نے سگریٹ تیاری کے لیے ملک بھر میں غیر اعلانیہ مائیکرو پروڈکشن سائٹس کو استعمال کر رہے ہیں ۔ اور غیر قانونی سگریٹ سازی کا عمل کھیتوں، رائس ملز اور حتیٰ کہ زیرِ زمین فیکٹریوں تک پھیل چکا ہے۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے حکام نے زور دیا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیےسگریٹ انڈسٹری کی پوری سپلائی چین کو جامع انداز میں ریگولیٹ کرنا ہوگا، جس میں خام مال کی ڈاکومینٹیشن، مینوفیکچرنگ کی نگرانی، ٹریک اینڈ ٹریس نظام، لاجسٹکس اور ترسیل، مضبوط بارڈر کنٹرول، مؤثر قانونی کارروائی اور ریٹیل سطح پر نفاذ شامل ہے۔
اس موقع پر پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے ریگولیٹری انگیجمنٹ مینیجر حمزہ خان نے کہا کہ اگرچہ ایکسائز کی مد میں ریونیو بظاہر بڑھا ہے، لیکن افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقی معنوں میں یہ آمدن ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں کم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ صارفین کا مہنگے قانونی سگریٹ برانڈز سے سستے غیر قانونی سگریٹ برانڈز کی طرف منتقل ہونا ہے۔ اس قانونی سے غیر قانونی سگریٹ برانڈز کی طرف منتقلی کی سب سے بڑی وجہ مالی سال 2022-23 میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ حکام نے حکومت کی جانب سے دیگر دستاویزی اقدامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سگریٹ سازی میں استعمال ہونے والے اہم خام مال ایسیٹیٹ ٹو میٹریل پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) عائد کیے جانے کے بعد یہ پاکستان میں اسمگلنگ کے لیے سب سے زیادہ منافع بخش مصنوعات میں شامل ہو چکا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت نے 500 ٹن سے زائد ایسیٹیٹ ٹومیٹریل ضبط کیا، جو ٹیکس بڑھانے کے منفی اثرات کی واضح مثال ہے۔
تجارتی ذرائع کے ریکارڈ کے مطابق، ایسے دیگر اہم خام مال جن پر ایڈوانس FED لاگو نہیں، ان کی درآمدات گزشتہ برسوں کے برابر ہی جاری ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر قانونی پیداوار میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔

حمزہ خان نے ٹریک اینڈ ٹریس نظام پر عملدرآمد کی خراب صورتحال کی بھی نشاندہی کی اور بتایا کہ مارکیٹ میں اب بھی متعدد برانڈز بغیر ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکس سٹیمپ کے دستیاب ہیں، جو ریگولیٹری نظام اور اس میں بہتری کے مؤثر ہونے پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ آخر میں پاکستان ٹوبیکوکمپنی نے حکومت کے پالیسی ساز اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی تجارت کے خلاف قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی کمپین کو جاری رکھا جائے تاکہ سرکاری ریونیو کا تحفظ ممکن ہو۔ ساتھ ہی ٹیکس پالیسی میں توازن پیدا کیا جائے تاکہ ایک منصفانہ اور مسابقتی مارکیٹ تشکیل دی جا سکے، جو براہِ راست ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد دے.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں