قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس، بھارت کے الزامات اور اقدامات پر سخت ردعمل
اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ) وزیراعظم پاکستان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی (NSC) کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں بھارت کے حالیہ اقدامات، الزامات اور اشتعال انگیز بیانات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ اجلاس میں پہلگام حملے پر بھارت کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان پر الزامات کا مقصد اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اور سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے واضح طور پر کہا کہ بھارت کی کوئی بھی آبی یا سرحدی مہم جوئی ناقابل قبول ہے اور اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوششوں کو بھی آبی جارحیت قرار دیا گیا اور سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ این ایس سی نے اعلان کیا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام دوطرفہ معاہدوں کو معطل کرنے پر غور کر رہا ہے، جن میں شملہ معاہدہ بھی شامل ہے۔ پاکستان کے فوری
اقدامات: واہگہ بارڈر کو فوری بند کر دیا گیا ، اور بھارت کے ساتھ تمام ٹرانزٹ معطل کر دیے گئے۔ SAARC ویزہ اسکیم کے تحت جاری تمام بھارتی ویزے منسوخ کر دیے گئے، تاہم سکھ یاتریوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ بھارتی دفاعی، فضائی اور بحری مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا۔ بھارتی ہائی کمیشن کا عملہ محدود کرتے ہوئے صرف 30 افراد تک محدود کر دیا گیا۔ پاکستانی فضائی حدود بھارتی ایئرلائنز کے لیے بند کر دی گئی۔ بھارت کے ساتھ تمام تجارتی روابط معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارت کی اشتعال انگیزیاں دو قومی نظریے کی سچائی کی دلیل ہیں اور پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ بھارت کا کشمیر پر غیرقانونی قبضہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ پہلگام حملے جیسے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بھارت کی گھٹیا سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ این ایس سی نے کلبھوشن یادیو کو بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا زندہ ثبوت قرار دیا اور یاد دلایا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں صفِ اول کا ملک رہا ہے۔ اجلاس میں زور دیا گیا کہ بھارتی پراپیگنڈا مکمل طور پر ناکام ہوگا۔









