وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 52واں اجلاس

اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل (CII) کا 52واں اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، متعلقہ حکام اور مشیروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے کیے گئے یکطرفہ، غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی شدید مذمت کی گئی۔ مشترکہ مفادات کونسل نے متفقہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارت کے کسی بھی غیر قانونی اقدام یا جارحیت کی صورت میں پوری قوم اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرے گی۔
اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان ایک پرامن اور ذمہ دار ریاست ہے، تاہم ملکی دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنا بخوبی جانتا ہے۔ اجلاس میں تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ نے بھارتی اقدامات کے خلاف مکمل یکجہتی اور قومی اتحاد کا بھرپور مظاہرہ کیا اور بھارت کی آبی جارحیت سمیت دیگر غیر قانونی اقدامات کے خلاف یک زبان ہو کر موقف اختیار کیا۔ اجلاس میں سینیٹ میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف منظور کی گئی قرارداد کی بھرپور تحسین کی گئی، اور اسے پاکستان کی جمہوری قوتوں کی مؤثر ترجمانی قرار دیا گیا۔
مشترکہ مفادات کونسل نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی یا پاکستان کا پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کی صورت میں، پاکستان اپنے آبی مفادات کے مکمل تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی سالمیت، خودمختاری اور دفاع کے تقاضے اولین ترجیح ہیں، اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ مشترکہ مفادات کونسل کی سینیٹ میں بھارتی غیر قانونی و غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے خلاف قرارداد کی بھر پور پزیرائی کی۔
اجلاس کو سی سی آئی سیکریٹریٹ کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل کی مالی سال 2021-2022 ، مالی سال 2022-2023 اور مالی سال 2023-2024 کی رپورٹس پیش کی گئیں۔
مشترکہ مفادات کونسل نے سی سی آئی سیکریٹریٹ ریکروٹمنٹ رولز کی منظوری دے دی۔
اجلاس کو کابینہ ڈویژن کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی سال 2020-2021، 2021-2022 ، 2022-2023 اور اسٹیٹ آف انڈسٹری کی سال 2021, 2022 اور 2023 کی رپورٹس پیش کی گئیں۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام ، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔مشترکہ مفادات کونسل نے نئی نہروں کے حوالے سے مندرجہ ذیل فیصلہ کیا ہے
اعلامیہ
سی سی آئی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کونسل نے نئی نہروں کے معاملے پر ایکنک کی 7 فروری کی منظوری منسوخ کردی ہے۔ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اتفاق رائے کے بغیر کوئی نئی نہر نہیں بنائی جائے گی۔
وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سی سی آئی سے باہمی اتفاق کے بغیر کوئی نئی نہریں نہیں بنائی جائیں گی۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبوں کے درمیان باہمی اتفاق پیدا ہونے تک وفاقی حکومت آگے نہیں بڑھے گی۔
اعلامیے کے مطابق تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پاکستان بھر میں زرعی پالیسی اور واٹر مینجمنٹ انفراسٹرکچر کے فروغ کے لیے ایک طویل مدتی اتفاق رائے کا روڈ میپ تیار کیا جارہا ہے۔
اس کے علاوہ تمام صوبوں کے خدشات کو دور کرنے اور پاکستان کی غذائی اور ماحولیاتی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے وفاق اور تمام صوبوں کی نمائندگی کے ساتھ ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔
اعلامیے کے مطابق یہ کمیٹی دونوں اتفاق رائے کے دستاویزات کے مطابق پاکستان کے طویل مدتی زرعی تقاضوں اور تمام صوبوں کے پانی کے استعمال کے لیے حل تجویز کرے گی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پانی ایک انتہائی قیمتی شے ہے اور آئین سازوں نے اسے تسلیم کیا، اس لیے انہوں نے تمام واٹر تنازعات کو باہمی اتفاق اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مناسب غور و فکر کے ذریعے حل کرنے کا مینڈیٹ دیا۔
اعلامیے کے مطابق کونسل نے ارسا کی نہروں سے متعلق 17 جنوری 2024 کو ہونے والی میٹنگ میں جاری کردہ واٹر ایوایلیبلٹی سرٹیفکیٹ واپس لینے کی ہدایت کی۔
پلاننگ ڈویژن اور ارسا کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ قومی یکجہتی کے مفاد میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو یقینی بنائیں اور باہمی اتفاق تک تمام خدشات کو دور کریں۔
واضح رہے کہ دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے معاملے پر وزیراعظم نے پیپلزپارٹی قیادت سے ملاقات کی اور دو مئی کو مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا۔حکومت سندھ کی اپیل پر وزیراعظم نے دو مئی کے بجائے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس آج ہی طلب کیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں