وزیر داخلہ محسن نقوی کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، اہم فیصلے
اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ( نادرا ) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں نادرا سروسز، شناختی نظام کی بہتری اور بایومیٹرک تحفظات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیر داخلہ نے سیکٹر I-8 میں 10 منزلہ نادرا میگا سینٹر کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ میگا سینٹر جون 2026 تک مکمل ہو گا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 2017 یا اس سے پرانے شناختی کارڈز پر جاری سمز فوری بند کی جائیں گی۔ اگلے مرحلے میں منسوخ شدہ شناختی کارڈز پر بھی یہی پالیسی لاگو کی جائے گی۔ وفات پا جانے والے افراد کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سمز بھی بلاک ہوں گی۔ چیئرمین نادر لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر کے مطابق، فیشل ریکگنیشن نظام کو ان افراد کی سہولت کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے جنہیں فنگر پرنٹ میں مشکلات درپیش ہیں۔
وزیر داخلہ نے تمام سرکاری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ شہریوں کی بایومیٹرک معلومات کی علیحدہ ذخیرہ اندوزی بند کی جائے۔31 دسمبر 2025 تک فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے گا۔ نادرا سروسز کو 44 نئی تحصیلوں اور مخصوص یونین کونسلوں تک توسیع دی گئی ہے۔ اسلام آباد کی تمام 31 یونین کونسلز میں 30 جون 2025 تک خدمات دستیاب ہوں گی۔ ملتان، سکھر، اور گواد ر میں نادرا ریجنل دفاتر کے قیام کی منظوری دے دی گئی۔
وزیر داخلہ نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی کہ ان ممالک اور خطوں کی نشاندہی کی جائے جہاں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو نادرا سروسز کی شدید ضرورت ہے۔ نادرا نے 87 نئے رجسٹریشن مراکز اور 417 اضافی کاؤنٹرز قائم کیے۔ NIC رولز 2002 میں ترامیم کی منظوری دی گئی ہے تاکہ رجسٹریشن کی شفافیت اور فراڈ کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔ نئے نظام میں فیشل ریکگنیشن اور آئرس (Iris) کو اضافی بایومیٹرکس کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
PAK ID ایپ کے ذریعے اب ڈیجیٹل شناختی کارڈ، پنشنرز کا پروف آف لائف اور وفاقی اسلحہ لائسنس کی تجدید ممکن ہے۔ ایپ کو اب تک 70 لاکھ سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔ نادرا شناختی فراڈ، سم کے غلط استعمال، اور بایومیٹرک تضادات کے خلاف PTA، FIA، SBP، SECP اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ اجلاس میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور نادرا کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ وزیر داخلہ نے نادرا کی اصلاحاتی کاوشوں اور عوامی خدمات میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔











