پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کا صحافیوں کو پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے پر شدید احتجاج و مذمت

اسلام آباد (غلام مرتضی) پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن پاکستان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کے جاری دھرنے کی کوریج کے دوران صحافیوں کو پیش آنے والی رکاوٹوں، ناروا سلوک اور بدتمیزی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ایسوسی ایشن کے صدر ایم بی سومرو، سیکرٹری نوید اکبر اور دیگر عہدیداران نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ گزشتہ روز سے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کی جانب سے دھرنا جاری ہے جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے قائدینِ حزبِ اختلاف، سینیٹرز اور اراکینِ قومی اسمبلی شریک ہیں۔
ایسے اہم سیاسی عمل کی کوریج کرنا صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے جس سے انہیں روکنا آزادی صحافت کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔پی آر اے پی کے مطابق گزشتہ رات دیر تک کوریج کے بعد آج صبح جب ایسوسی ایشن کے صدر ایم بی سومرو، سینئر صحافی اکرم عابد اور دیگر رپورٹرز پارلیمنٹ ہاؤس کے داخلی دروازے پر پہنچے تو سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روک دیا اور دھکے دئیے۔ صحافی اکرم عابد کو بازوؤں سے پکڑ کر زبردستی پولیس وین میں ڈالنے کی کوشش بھی کی گئی۔ اس موقع پر صدر پی آر اے پی ایم بی سومرو نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر اکرم عابد کو رہا نہ کیا گیا تو انہیں بھی گرفتار کر لیا جائے۔ بعد ازاں اکرم عابد کو رہا کر دیا گیا۔
ایسوسی ایشن نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس جیسے قومی ادارے میں صحافیوں کو داخلے سے روکنا دراصل ان کے آئینی اور پیشہ ورانہ حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ پارلیمنٹ کو قلعہ بند کر کے میڈیا کو کوریج سے روکنا غیر جمہوری اور آمرانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔پی آر اے پی نے واضح کیا کہ صحافیوں کا بنیادی حق ہے کہ وہ عوامی نمائندوں کی سرگرمیوں، خصوصاً پارلیمنٹ میں جاری اہم سیاسی پیش رفت کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور ذمہ دارانہ کوریج کریں۔ اگر میڈیا کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکا جائے گا تو عوام تک درست اور بروقت معلومات کی ترسیل متاثر ہوگی، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر تمام صحافیوں کو پارلیمنٹ ہاؤس میں بلا رکاوٹ داخلے کی اجازت دی جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ایسوسی ایشن ایک بار پھر اس غیر مناسب اور غیر جمہوری طرزِ عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ صحافیوں کے پیشہ ورانہ حقوق، آزادی صحافت اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر کسی قسم کی قدغن قبول نہیں کی جائے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں