پنجاب میں جنوری تا جون 2025 کے دوران بچوں پر تشدد کے 4 ہزار 150 سے زائد واقعات رپورٹ ، سزا کی شرح 1 فیصد سے بھی کم رہی۔
اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ): سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) نے پنجاب میں جنوری تا جون 2025 کے دوران بچوں پر ہونے والے تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے متعلق تازہ فیکٹ شیٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں روزانہ اوسطاً 23 بچوں پر تشدد کے واقعات پولیس کے پاس رپورٹ ہوئے۔ یہ فیکٹ شیٹ پنجاب پولیس سے پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت حاصل کردہ ضلعی سطح کے اعدادوشمار پر مبنی ہے۔
ایس ایس ڈی او کے مطابق پنجاب بھر میں اس عرصے کے دوران بچوں سے متعلق 4 ہزار 150 مقدمات درج ہوئے، جن میں سے 3 ہزار 989 کیسز چالان ہوئے جبکہ 3 ہزار 791 تاحال زیرِ سماعت ہیں، جو عدالتی تاخیر اور کمزور نظامِ انصاف کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق گزشتہ ایک سال میں پنجاب حکومت نے رپورٹنگ کے نظام میں بہتری لائی ہے، جس سے کیسز کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے، تاہم سزا کی انتہائی کم شرح باعثِ تشویش ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق چھ ماہ کے دوران صرف 12 مقدمات میں سزا سنائی گئی، جو کہ مجموعی کیسز کا نہایت کم تناسب ہے اور تفتیش، شواہد کے حصول، متاثرہ بچوں کی معاونت اور استغاثہ کے مراحل میں سنگین خامیوں کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ جنسی استحصال کے 717 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 658 چالان ہوئے اور 581 مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ اس سنگین نوعیت کے جرم میں ایک بھی سزا نہیں ہو سکی جبکہ 12 مقدمات میں بریت اور 8 میں درخواستیں واپس لی گئیں۔
چائلڈ بیگری (بچوں سے بھیک منگوانا) سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والا جرم رہا، جس کے 2 ہزار 693 کیسز درج ہوئے۔ ان میں سے 2 ہزار 674 چالان ہوئے اور 2 ہزار 669 تاحال زیرِ سماعت ہیں، مگر ایک بھی مقدمے میں سزا نہیں ہو سکی. دیگر اقسام میں چائلڈ ٹریفکنگ کے 332 کیسز سامنے آئے جن میں 4 ملزمان کو سزا ہوئی، جبکہ چائلڈ لیبر کے 182 کیسز میں 8 سزائیں سنائی گئیں۔ اس کے برعکس جسمانی ہراساں کے (87 کیسز) اور اغوا (27 کیسز) کے مقدمات میں بھی کوئی سزا نہ ہو سکی۔
چائلڈ میرج انتہائی کم رپورٹ ہونے والا جرم رہا، جہاں صرف 12 کیسز سامنے آئے اور کسی بھی مقدمے میں سزا یا بریت نہیں ہوئی، جو معاشرتی، ثقافتی اور قانونی رکاوٹوں کو نمایاں کرتا ہے۔ ضلعی سطح پر لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ بچوں پر تشدد اور استحصال کے نمایاں ہاٹ سپاٹس کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ لاہور میں جنسی استحصال، چائلڈ بیگری اور ٹریفکنگ کے سب سے زیادہ مقدمات رپورٹ ہوئے، جبکہ ننکانہ صاحب، گجرات اور منڈی بہاؤالدین میں ٹریفکنگ کی بلند شرح دیکھی گئی۔
ایس ایس ڈی او کے مطابق مجموعی صورتحال واضح کرتی ہے کہ پنجاب میں بچوں کے تحفظ کے نظام میں شدید خامیاں موجود ہیں ، سزا کی انتہائی کم شرح، ہزاروں زیرِ سماعت مقدمات اور چائلڈ میرج جیسے حساس جرائم کی بدستور کم رپورٹنگ۔ تنظیم نے تفتیشی صلاحیت بڑھانے، فوری ٹرائلز، بین الادارہ جاتی تعاون، چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے دائرہ کار میں توسیع اور کمیونٹی سطح پر آگاہی مہمات پر فوری عملدرآمد کی سفارش کی ہے۔ایس ایس ڈی او نے زور دیا کہ پنجاب کے بچوں کا تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے حکومت، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاشرے کو ہنگامی بنیادوں پر مربوط اقدامات کرنا ہوں گے۔











