ہر بوند قیمتی ہے‘: عالمی یومِ آب پر طلبہ سرگرم

کراچی (نمائندہ خصوصی) پانی زندگی ہے لیکن ہر بوند خطرے میں ہے۔ اس عالمی یومِ آب پر آغا خان یونیورسٹی (AKU) اپنے سالانہ ماحولیاتی مقابلے “صدر چیلنج برائے ماحولیاتی حل” کے ذریعے پانی کے تحفظ کی فوری ضرورت کو اجاگر کر رہی ہے۔ “ہر بوند قیمتی ہے” کے عنوان کے تحت آغا خان یونیورسٹی کے چار کیمپسز سے 16 طلبہ گروپ ماہر ججز کے سامنے اپنے جدید خیالات اور اقدامات پیش کریں گےیہ دکھاتے ہوئے کہ تخلیقی حل کس طرح معنی خیز تبدیلی لا سکتے ہیں۔
یہ اقدام عالمی یومِ آب اور پائیدار ترقی کا ہدف 6: سب کے لیے پانی اور صفائی کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ پائیدار پانی کا انتظام ایک مستحکم اور مساوی مستقبل کی کنجی ہے۔
جیسے جیسے دنیا بڑھتے ہوئے مسائل کا سامنا کر رہی ہےخشک سالی، آلودگی سے لے کر شدید سیلاب تک نئے اور جراتمندانہ حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔روشن ذہنوں کو اکٹھا کرتے ہوئےیہ مقابلہ طلبہ کو چیلنج دیتا ہے کہ وہ پانی کے ضیاع کو کم کرنے، تازہ پانی کے وسائل کے تحفظ اور پائیدار آبی طریقوں کے فروغ کے لیے جدید حل تیار کریں۔ گزشتہ سات مہینوں کے دوران 465 سے زائد طلبہ نے ذہین تحفظاتی ٹیکنالوجیز سے لے کر کمیونٹی انگیجمنٹ کی سرگرمیوں تک مختلف حلوں پر کام کیا یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ عالمی آبی بحران سے نمٹنے میں انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی کوششوں کی طاقت کتنی اہم ہے۔
ڈاکٹر سلیمان شہاب الدین، صدر، آغا خان یونیورسٹی نے کہا”ہمیں اپنی ندیوں، جھیلوں، گلیشیئرز اور زیرِ زمین آبی ذخائر کو قیمتی قدرتی وسائل سمجھ کر سنبھالنا ہوگاجو زندگی، صحت اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔ ہم اپنے مستقبل کو خشک نہیں ہونے دے سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی قلت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے چیلنجز ہیں اور ہمارے طلبہ نہ صرف تخلیقی حل کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں بلکہ یہ بھی دکھا رہے ہیں کہ تعلیم اور تحقیق دنیا کے سب سے بڑے بحرانوں میں سے ایک سے نمٹنے میں کتنی طاقتور ہو سکتی ہے۔ آغا خان یونیورسٹی میں ہم یقین رکھتے ہیں کہ علم ہی تبدیلی کا ذریعہ ہے اور آج کے خیالات ایک زیادہ پائیدار کل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔”
آغا خان یونیورسٹی کا ماحولیاتی تحفظ، ماحولیات اور پائیداری سے وابستگی کئی پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ موسمیاتی تعلیم کے علاوہ، ہمارے کیمپس اور طریقہ کار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ماحول اور پانی کے لیے بڑے پیمانے پر عملی اقدامات ممکن ہیں۔ 1980 کی دہائی سے آغا خان یونیورسٹی کے اسٹیڈیم روڈ کیمپس میں قدرتی طریقوں سے عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کے ذخائر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پانی بچانے والے نوزلز پہلے سے موجود سینسر ٹونٹیوں پر نصب کیے گئے ہیں تاکہ پانی کے استعمال کو مزید کم کیا جا سکےجبکہ آغا خان یونیورسٹی کا 3.8 میگاواٹ سولر پی وی سسٹم جیسی قابلِ تجدید توانائی پانی پر مبنی توانائی پیدا کرنے کے طریقوں پر انحصار کم کرتی ہے۔
اس کے علاوہ آغا خان یونیورسٹی کا سنگل یوز (ایک بار استعمال ہونے والے) مواد سے ری یوز ایبل (دوبارہ استعمال ہونے والے) مواد کی طرف منتقلی، سپلائی چین میں پانی کی بچت کا باعث بنی ہے۔جیسے جیسے دنیا پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے دور میں داخل ہو رہی ہے آغا خان یونیورسٹی اپنے مشن پر قائم ہے کہ علم کو فروغ دے، عمل کی ترغیب دے اور حل پیش کرے۔ صدر چیلنج برائے ماحولیاتی حل جیسے اقدامات کے ذریعے، یونیورسٹی دنیا بھر کے نوجوانوں کو عملی اقدامات کے لیے بااختیار بنا رہی ہےکیونکہ واقعی ہر بوند قیمتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں