سچن ٹنڈولکر کو کرکٹ کی بلندیوں تک پہنچانے میں کس کا ہاتھ ہے؟

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)سچن ٹنڈولکر نہ صرف بھارت بلکہ دنیائے کرکٹ کی تاریخ کے بڑے کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز کے ڈھیر لگانے والے سچن کے ریکارڈز بلاشبہ انہیں دنیائے کرکٹ کے بڑے بلے بازوں کی فہرست میں شامل کرتے ہیں لیکن اس کے پیچھے ایک سابق بھارتی کپتان کا بھی ہاتھ ہے۔ٹنڈولکر جنہوں نے 1989 میں کراچی میں پاکستان کے خلاف اپنے انٹرنیشنل کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا، لیکن ون ڈے میں 49 سنچریاں بنانے والے بیٹر کو پہلی سنچری بنانے کے لیے 6 سال 79 میچز کا انتظار کرنا پڑا۔
ٹنڈولکر 1994 تک مڈل آرڈر میں پانچویں یا چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرنے آتے تھے۔ اس دوران انہوں نے کئی بار اچھی اننگز کھیلیں لیکن کھل کر اپنی صلاحیتوں کا اظہار اس وقت کیا جب اس وقت کے کپتان محمد اظہر الدین نے دورہ نیوزی لینڈ کے دوران انہیں اوپن کرایا۔بطور اوپنر اپنے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں انہوں نے 82 رنز کی فتح گر اننگ کھیلی۔ یہ ان کا 69 واں میچ تھا، جب کہ 79 ویں میچ میں انہوں نے پہلی ون ڈے سنچری اسکور کی۔ اس کے بعد پھر انہوں نے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔اظہر الدین نے صرف اوپنر کے طور پر ہی ٹنڈولکر کو موقع نہیں دیا بلکہ اس سے قبل 1993 میں بھارت میں کھیلے گئے ہیرو کپ کے سیمی فائنل میں انہیں بطور بولر آزما کر جنوبی افریقہ کو سرپرائز دیا اور ٹنڈولکر نے کپتان کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے آخری اوور میں پروٹیز کو درکار 6 رنز نہ بنانے دیے اور صرف ایک رن دے کر انڈیا کو میچ جتوایا۔
ٹنڈولکر نے اظہر الدین کے ان انقلابی فیصلوں سے متعلق اپنے ایک پرانے انٹرویو میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ دورہ نیوزی لینڈ میں سدھو طبیعت خرابی کی وجہ سے نہیں کھیل رہے تھے تو انہوں (ٹنڈولکر) نے خود کو اوپنر بھیجنے کی درخواست کی تھی اور ساتھ ہی اظہر الدین سے کہا تھا کہ اگر میں بطور اوپنر ناکام ہو گیا تو پھر کبھی ان کے پاس نہیں آوں گا۔اظہرالدین بھی اس حوالے سے ماضی میں ایک انٹرویو میں کہہ چکے کہ ‘نہ صرف ہم بلکہ ٹنڈولکر خود بھی اوپننگ کرنا چاہتے تھے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے اس پر رضامندی ظاہر کی اور اس فیصلے نے ایک آل ٹائم عظیم ترین کرکٹر کو پیدا کیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں