اسلام آباد میں پاکستان انویسٹمنٹ پوٹینشل سمٹ کا انعقاد، سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پر زور

اسلام آباد (سید جاوید حسن شاہ): اسلام آباد میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود کی میزبانی میں پاکستان انویسٹمنٹ پوٹینشل سمٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممتاز کاروباری رہنماؤں اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ سمٹ میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع اور اقتصادی ترقی میں مختلف شعبوں کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاحت اور معروف کاروباری رہنما سردار یاسر الیاس خان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں خصوصاً رئیل اسٹیٹ، سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے قدرتی مناظر، ثقافتی ورثہ اور تاریخی مقامات کو جدید انفراسٹرکچر کے ساتھ فروغ دے کر معیشت کو مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔
مہمان خصوصی اور فیصل ٹاؤن گروپ کے چیئرمین چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے پالیسیوں کے تسلسل، واضح سمت اور نجی شعبے کی مؤثر شمولیت کو ملکی معیشت کے فروغ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
اپنے افتتاحی خطاب میں سردار طاہر محمود نے کہا کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع، نوجوان افرادی قوت اور بڑھتے ہوئے انفراسٹرکچر کی بدولت مضبوط معاشی صلاحیتوں کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمٹ کا مقصد سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کے درمیان مؤثر مکالمہ قائم کرنا ہے تاکہ عملی اقدامات کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عثمان شوکت نے کاروباری قوانین کو آسان بنانے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب میں زوہیر مجید نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ نہ صرف رہائش فراہم کرتا ہے بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دیگر صنعتوں کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سمٹ کے دوران ایک پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوا جس میں سرمایہ کاری کے ماحول، ابھرتے ہوئے معاشی شعبوں اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے ذریعے نئی اقتصادی راہداریوں کے قیام پر روشنی ڈالی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور اصلاحات کے ذریعے پاکستان ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش منزل بن سکتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں