غزہ جنگ صحافیوں کے لیے بد ترین ، ہلاکتوں کی تعداد دونوں عالمی جنگوں سے زیادہ
غزہ (نمائندہ خصوصی )بین الاقوامی ادارے واٹسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹر نیشنل سٹڈیزنے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کی ادا کی گئی صحافتی قیمت کا اندازہ لگاتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس جنگ کے دوران تمام امریکی جنگوں میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس لیے یہ جنگ صحافیوں کے حوالے سے اب تک کی بد ترین جنگ ہے۔امریکی میڈیا نے بتایاکہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جنگ نہ صرف صحافیوں کی زندگیوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ اخباری کوریج کے حوالے سے بھی انتہائی بری جنگ ہے۔ رپورٹ میں اس جنگ کے لیے خبر کا قبرستان کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ کیونکہ یہ بد ترین لڑائی ثابت ہوئی ہے۔ سات اکتوبر سے اب تک 208 صحافی قتل کیے گئے ۔
خبروں کے قبرستان کے عنوان سے رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ‘ کس طرح جنگی رپورٹرز کے لیے خطرات نے دنیا کو خطرے میں ڈال دیا۔رپورٹ میں جنگ کے دوران صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اسی طرح امریکی نیوز انڈسٹری کے وسیع تر رجحانات کو بھی متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر بھی صحافتی کوریج بھی کمزور ہوئی ہے۔خود غزہ میں صحافیوں کی ایسی قتل وغارت گری دیکھی ہے کہ جس کی ماضی میں کہیں بھی مثال نہیں تھی۔ کئی بین الاقوامی صحافتی اداروں کے بیوروز بھی اس جنگ کی وجہ سے بند ہو گئے۔
دنیا بھر کی اخباری صنعت کی معیشت کے علاوہ جنگی تشدد، اور سنسرشپ کے ساتھ ساتھ مہمات و تنازعات کی بڑھتی ہوئی تعداد کا خطرہ ہے، جس کی غزہ بد ترین مثال ہے۔بران یونیورسٹی میں قائم غیرجانبدارانہ تحقیقی پروجیکٹ جو نائن الیون کے بعد کی جنگوں کے انسانی، مالی اور سیاسی اخراجات کا تجزیہ کرتا ہے، نے پایا کہ سات اکتوبر 2023 سے غزہ کی جنگ کے دوران کی صحافیوں کی ہلاکتیں امریکی خانہ جنگی، پہلی و دوسری جنگ عظیم، کوریا اور ویتنام کی جنگ اور نائن الیون کے بعد افغانستان کی جنگ کے دوران بھی اتنی بڑی تعداد میں صحافی کبھی نہیں مارے گئے تھے۔ لیکن سب سے زیادہ تعداد میں صحافی غزہ مارے گئے ہیں۔رپورٹ یہ انکشاف بھی کرتی ہے کہ سال 2024 میں، دنیا بھر میں ہر تین دن میں ایک میڈیا کارکن قتل کیا گیا ہے۔اس سے پچھلے سال 2023 کے دوران جنگی ہلاکتوں میں صحافیوں کے قتل کی شرح ہر چار دن بعد ایک صحافی کے قتل کی تھی۔












