آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد پاکستان کو 71کروڑ ڈالر کی قسط دسمبر میں جاری کرے گا،

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی مذاکرات کا آخری مرحلہ کامیاب ہوگیا،پاکستان اور آئی ایم ایف کا تقریبا تمام نکات پر اتفاق رائے ہوگیا، طے کیا گیا ہے کہ نگران حکومت بجلی کا بنیادی ٹیرف نہیں بڑھائے گی،
مارچ تک بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے سرکلر ڈیٹ کا بوجھ کم کرنے کےلیے عارضی سرچارج لگانے کا مطالبہ کیا ہے،سرکلر ڈیٹ کم کرنے کےلیے 95 پیسے فی یونٹ سرچارج عائد کرنے کا آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے،وزیرخزانہ شمشماد اختر نے آئی ایم ایف مشن سے پالیسی سطح کے مذاکرات مکمل کیے۔آج آئی ایم ایف مشن اور معاشی ٹیم کیجانب سےایم ای ایف پی ڈرافٹ آج تیار کئے جانے کا امکان ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ بنکوں کے منافع پر 55 ارب روپے تک 40فیصد تک کا ونڈفال ٹیکس لگانے پر اتفاق کیا گیا ہے، بنکوں کے منافع پر ونڈفال ٹیکس مالی سال 2021 اور 2022 کیلئے لگایا جائے گا، ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق بنکوں کے منافع پر ونڈفال ٹیکس لگا کر آئندہ ماہ کے دوران وصولی کی جائے گی، بنکوں پر ونڈفال ٹیکس عائد کرنے کیلئئے نہ تو فنانس بل میں ترمیم کی ضرورت ہے اور نہ ہی وفاقی کابینہ سے منظؤری ضروری ہے،نہیں، فریقین کے درمیان شرح سود مزید نہ بڑھانے پر اتفاق ہوگیا ہے،آئی ایم مشن اپنی سفارشات آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کو بھجوائے گا.آئی ایم ایف ایگذیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد پاکستان کو 71کروڑ ڈالر کی قسط دسمبر میں جاری کرے گا،

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں