خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے چائنہ ونڈو اور ایک مقامی تنظیم کونسلٹریٹ کے درمیان مفاہمت کی ایک یاداشت پر دست خط ہوئے ہیں
پشاور(زاہد یعقوب خواجہ)خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے چائنہ ونڈو اور ایک مقامی تنظیم کونسلٹریٹ کے درمیان مفاہمت کی ایک یاداشت پر دست خط ہوئے ہیں جس کے تحت دونوں ادارے خواتین کے مختلف ایونٹس کا باقاعدگی کے ساتھ انعقاد کریں گے۔ایم او یو پر دست خط کرنے کی تقریب چائنہ ونڈو میں منعقد ہوئی۔ بے نظیر بھٹو وومن یونی ورسٹی پشاور کی سابق وائس چانسلر اور ممبر پبلک سروس کمیشن خیبر پختون خوا پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ، نامور مصور جہانزیب ملک تمغہ امتیاز اور پاکستان ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کے چئیرمین محمدبلال سیٹھی بھی موجود تھے۔اس موقع پر چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر ناز پروین نے بتایاکہ چائنہ ونڈو میں خواتین کی بڑی تعداد باقاعدگی سے دورہ کرتی ہے۔مختصر عرصے میں ۴۲ ہزار سے زائد خواتین جن میں طالبات کی بڑی تعداد شامل ہے چینی ثقافتی مرکز کا دورہ کر چکی ہے یہی وجہ ہے کہ خواتین کی حوصلہ افزائی کے لئے مختلف ایونٹس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایم او یو کے تحت دونوں ادارے پاک چینی دوستی کو فروغ دینے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔
کونسل ٹریٹ کی ڈائریکٹر شہربانو نے چائنہ ونڈو کے ساتھ ایم او یو کو ایک اہم دستاویز قرار دیا اور کہا کہ خواتین بھی مردوں کی طرح چین سے متعلق جاننا چاہتی ہیں اور خاص طور پر موجودہ بین الاقوامی سیاسی صورت حال کے تناظر میں انہیں ایجوکیٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ خطے میں بڑی طاقتوں کے درمیان کیا واقعات رونما ہو رہے ہیں۔شہر بانو نے مزید کہا کہ چائنہ ونڈو اور ان کی تنظیم باہم مل کر خواتین اور طالبات کے لئے ثقافت، تعلیم، پیشہ وارانہ خدمات کے شعبے میں خدمات انجام دیں گے۔اس موقع پر بے نظیر بھٹو وومن یونی ورسٹی پشاور کی سابق وائس چانسلر اور ممبر پبلک سروس کمیشن خیبر پختون خوا پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ کا کہنا تھا کہ خواتین کا عالمی دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ خواتین کے حقوق، ان کی تعلیم، صحت، اور برابری کے موضوعات کو اہمیت دی جائے۔ اس دن کی مناسبت سے خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں جو خواتین کی معیشتی، سماجی، اور سیاسی حالت میں ان کی بہتری کا باعث بنیں پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے، ان کے تجربات اور کام کو سراہنے، اور ان کی ضروریات اور خواہشات کو سامنے رکھنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا اور چائنہ ونڈو کے منتظمین کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔









