گوگل پاکستان ڈیجیٹل مہارت کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنارہا ہے
اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ) عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے گوگل پاکستان نے HERstory: Google IWD 2025 کے عنوان سے ایک ویبینار کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن محترمہ شزا فاطمہ خواجہ نے اس تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں 550 سے زائد شرکاء نے شرکت کی اور خواتین کو ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھانے کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔عالمی یوم خواتین 2025 کے موضوع “Accelerate Action” سے ہم آہنگ اس مباحثے میں تعلیم، رہنمائی، اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کے ذریعے خواتین کو ڈیجیٹل معیشت میں بااختیار بنانے پر توجہ دی گئی۔ یہ سیشن تین ایسی متاثر کن خواتین کے پینل پر مشتمل تھا جنہوں نے گوگل کی ڈیجیٹل مہارتوں کے تربیتی پروگراموں سے فائدہ اٹھایا اور بدلے میں پاکستانی خواتین کے لیے کیریئر کی ترقی کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، یا اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے خواتین کی آواز کو اجاگر کیا۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن،شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ”پاکستان نہ صرف ٹیکنالوجی میں صنفی فرق کو کم کر رہا ہے بلکہ ہم ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کے مستقبل کی نئی تعریف کر رہے ہیں۔ ہماری نوجوان خواتین ہمیشہ قابلیت کی بنیاد پر نمایاں کارکردگی دکھاتی رہی ہیں، تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر کے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں قائدانہ کردار ادا کررہی ہیں۔ لیپ ٹاپ اسکیم جیسے اقدامات کے ذریعے، ہم نے ہزاروں طالبات کو وہ وسائل فراہم کیے ہیں جو انہیں ڈیجیٹل دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے درکار ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے لے کر سائبر سیکیورٹی تک، خواتین محض شراکت دار نہیں بلکہ راہنما بن رہی ہیں جو رکاوٹوں کو عبور کرکے جدت کی نئی راہیں متعین کر رہی ہیں۔ ہمارا عزم واضح ہے: کوئی بھی خاتون ٹیکنالوجی کے اس انقلاب سے پیچھے نہ رہے۔ گوگل جیسے انڈسٹری لیڈرز کے ساتھ مل کر ہم ایک ایسا مستقبل تعمیر کر رہے ہیں جہاں خواتین ٹیکنالوجی میں صرف شامل نہیں بلکہ قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔
پاکستان کے لیے گوگل کے کنٹری ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ ”گوگل میں ہم زندگیوں کو تبدیل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں اور ہم ’فیوچر فارورڈ پاکستان‘کی تعمیر کے لیے پرعزم ہیں جہاں ہر شخص ڈیجیٹل معیشت میں اپنی پوری صلاحیت تک پہنچ سکے۔ پاکستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی فری لانس معیشت ہے اور تیزی سے بڑھتا ہوا ڈیجیٹل ٹیلنٹ پول ہے۔ ہم ڈیجیٹل اسکلز میں اضافے کی جوش و خروش سے حوصلہ افزائی کرتے ہیں، خاص طور پراپنے پروگراموں میں خواتین کی فعال شرکت کے ذریعے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل سفر، گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ اور اپنے گوگل ڈویلپر گروپس جیسے اقدامات کے ذریعے ہم تمام پاکستانیوں کو عالمی معیشت میں کامیابی کے لیے ہنر، مواقع اور نیٹ ورکس سے لیس کرتے رہیں گے۔
گوگل کس طرح پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو بااختیار بنانے کے لئے پرعزم ہے”آگے بڑھو: پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی کو بااختیار بنانا“
رپورٹ کے مطابق، ڈیجیٹل مہارت وں کے فرق کو کم کرنے سے سنہ 2030ء تک ملک کے سالانہ جی ڈی پی میں 2.8 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوسکتا ہے۔اس ڈیجیٹل تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے گوگل نے ایسے اقدامات شروع کیے ہیں جن کا مقصد پاکستانی ٹیک ٹیلنٹ اور ڈیویلپرز کو ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کی مہارتوں سے آراستہ کرنا اور پاکستانی افرادی قوت کو ڈیجیٹل معیشت میں نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کرنا ہے۔
• سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، UI/UX، اور ڈیٹا تجزیات جیسے شعبوں میں صنعت سے تسلیم شدہ تربیت پیش کرکے گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ (جی سی سی) کے ذریعے مہارت کے فرق کو ختم کرنا۔ سنہ2022ء میں اس پروگرام کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زائد اسکالرشپس دی جا چکی ہیں جن میں سے تقریباً 50 فیصد خواتین کو دی گئی۔ گزشتہ برس، گوگل نے چند گھنٹوں کے اندر مصنوعی ذہانت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے اے آئی ایسینشل اسکلنگ (AI Essential Skilling) پروگرام بھی متعارف کرایا ، اور کیریئر کامیابی کا آغاز کیا ، جو خواتین جی سی سی گریجویٹس کے لیےملازمت کے فرق کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
• گوگل ڈیویلپر گروپس کے ذریعے پاکستانی ٹیک ٹیلنٹ اور ڈویلپرز کو آگے بڑھانا۔ پاکستان بھر میں 47 GDGs کے ساتھ گوگل کمیونٹی کی قیادت میں سیکھنے، رہنمائی اور معلومات کے تبادلے کے ذریعے ڈیویلپر ایکو سسٹم کو آگے بڑھا رہا ہے۔ #AISeekho پروگرام میں 1,300 سے زائد خواتین نے داخلہ لیااور مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ (ایم ایل) اور کلاؤڈ بیسڈ ٹیکنالوجیز کے ساتھ تجربہ حاصل کیا۔
• یوٹیوب کری ایٹرزاور ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی ترقی کی اعانت۔ پاکستان میں اس وقت 10 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز کے ساتھ 600 کری ایٹرزاور ایک لاکھ سے زائد سبسکرائبرز کے ساتھ 8500 سے زائد کری ایٹرزہیں جن میں اقرا کنول اور کنول احمد جیسی پاکستانی خاتون کری ایٹرز بھی شامل ہیں۔ گوگل کری ایٹرز کو معاشی مواقع کے لیے مدد فراہم کرنے کی غرض سے پُرعزم ہے: اپنی سالانہ آمدنی میں 10 ملین روپے یا اس سے زیادہ کمانے والے یوٹیوب چینلز کی تعداد میں سال بہ سال 25 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔اس رفتار کو تیز کرتے ہوئے ، گوگل مینٹورشپ پروگراموں ، مہارتوں کی تربیت اور انڈسٹری نیٹ ورکنگ ایونٹس کے ذریعے ٹیکنالوجی میں خواتین کی مدد جاری رکھے گا۔









