الیکشن کمیشن: پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف درخواستیں قابل سماعت قرار

الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف درخواستوں کو قابل سماعت قرار دے دیا ہے۔‏الیکشن کمیشن نے درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے انٹرا پارٹی الیکشن کے معاملہ پر پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کردیا ہے۔الیکشن کمیشن میں آج مرکزی دارخوست گزار اکبر ایس بابر کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ اکبر ایس بابر کے وکیل علی حسن نے دلائل دیے کہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانا لازمی ہے، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے لیکن انتخابات سے 2 روز قبل الیکشن کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے، کوئی ووٹرز فہرست نہیں تشکیل دی جاتی اور 2 دن بعد انتخابات کرا دیے جاتے ہیں۔اس موقع پر ممبر خیبرپختوانخوا نے اکبر ایس بابر کے وکیل سے سوال کیا کہ پی ٹی آئی آئین کے آرٹیکل 5 میں کیا کہا گیا ہے جس پر وکیل نے بتایا کہ اس آرٹیکل کا مطلب ہے کہ بند کمرے میں الیکشن کردیں۔ ممبر خیبرپختوانخوا نے کہا یہاں سنجیدہ بات کریں، مذاق نہ کریں۔دوران سماعت اکبر ایس بابر کے وکیل نے پی ٹی آئی کے نومنتخب اراکین کو معطل کرنے کی استدعا کی تو کمیشن نے ان سے استفسار کیا کہ آپ پی ٹی آئی آئین کو معطل کرنا چاہتے ہیں یا انٹرا پارٹی انتخابات کو۔ممبر خیبرپختونخوا نے اسفتسار کیا کہ آپ کس حیثیت سے الیکشن لڑ رہے تھے، کیا آپ کی ممبر شپ ختم نہیں ہوچکی۔ وکیل نے جواب دیا کہ ممبر شپ نہیں ختم ہوئی، اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں