قیمتیں کنٹرول کرنے کے ذمہ داران افسران تعطیل کے روز لمبی تان کر سوتے رہے ،گراں فروشی عروج پر رہی س
لاہور(سید جاوید حسن شاہ)قیمتیں کنٹرول کرنے کے ذمہ داران افسران نے تعطیل کے روز خریداروں کو دکانداروں کے رحم و کرم پر چھوڑدیا، سرکاری نرخنامہ مذاق بن گیا ،اوپن مارکیٹوں خصوصا گلی محلے میں بنائی گئی دکانوں پر سبزیاں اور پھل من مانے نرخوں پر فروخت کئے گئے ۔
سرکاری نرخنامے میں آلو کچا چھلکا درجہ اول کی قیمت50روپے مقرر کی گئی تاہم مختلف مقامات پر دکاندار 70سے80روپے کلو تک فروخت کرتے رہے،آلو کچا چھلکا درجہ دوم40کی بجائے60،آلو کچا چھلکا درجہ سوم35کی بجائے50،پیاز درجہ اول40کی بجائے60، پیاز درجہ دوم35کی بجائے50، پیاز درجہ سوم30کی بجائے40،ٹماٹر درجہ اول40کی بجائے70، ٹماٹر درجہ دوم35کی بجائے50، ٹماٹر درجہ سوم30کی بجائے40،لہسن دیسی نیا160کی بجائے280سے300،لہسن ہرنائی230کی بجائے340سے360،لہسن چائنہ345کی بجائے580سے600،ادرک تھائی لینڈ420کی بجائے600سے640،ادرک چائنہ420کی بجائے580سے600،کھیرا فارمی55کی بجائے70،میتھی80کی بجائے80کی بجائے130سے140،بینگن 50کی بجائے70،بند گوبھی30کی بجائے50سے60،پھول گوبھی90کی بجائے120،شملہ مرچ55کی بجائے90سے100،بھنڈی180کی بجائے250کی بجائے260،شلجم45کی بجائے60سے70،اروی175کی بجائے210سے220،مٹر150کی بجائے170سے180،کریلا70کی بجائے90سے100،سبز مرچ120کی بجائے170سے180،کھیرا دیسی70کی بجائے90،لیموں چائنہ250کی بجائے400سے450،حلوہ کدو30کی بجائے40سے50،ٹینڈے دیسی170کی بجائے200سے220،ٹینڈیاںفارمی70کی بجائے90،گھیا کدو60کی بجائے80،پالک فارمی25کی بجائے40،گاجر چائنہ45کی بجائے70سے80،گاجر دیسی40کی بجائے60جبکہ گھیا توری110کی بجائے140سے150روپے کلو فروخت کیا گیا ۔
پھلوں میں سیب ایرانی درجہ اول330کی بجائے500سے550،سیب ایرانی درجہ دوم260کی بجائے380سے400،سیب کالا کولو پہاڑی درجہ اول360کی بجائے600سے650،سیب کالا کولو پہاڑی درجہ دوم270کی بجائے400سے450،سیب کالا کولو پہاڑی درجہ سوم200کی بجائے300سے320،سیب کالا کولو میدانی درجہ اول225کی بجائے330سے350،سیب کالا کولو میدانی درجہ دوم120کی بجائے220سے250،سیب سفید درجہ اول 210کی بجائے300سے340،سیب سفید درجہ دوم115کی بجائے200،کیلا درجہ اول درجن240کی بجائے380سے400،کیلا درجہ دوم درجن190کی بجائے280سے300،کیلا درجہ سوم درجن120کی بجائے140سے160،امرود درجہ اول160کی بجائے200،امرود درجہ دوم115کی بجائے150سے160،انار دانے دار535کی بجائے780سے800،انار قندھاری درجہ اول615کی بجائے850سے900،کنو سپیشل درجن520کی بجائے680سے700،کنو درجہ اول درجن190کی بجائے300،آڑو درجہ اول210کی بجائے340سے360،آڑو درجہ دوم115کی بجائے220سے240،گرما70کی بجائے90سے100،خربوزہ سفید48کی بجائے60،خربوزہ درجہ اول80کی بجائے130سے140،خربوزہ درجہ دوم50کی بجائے80سے100،پپیتا250کی بجائے280سے300،فالسہ370کی بجائے440سے460،تربوز40کی بجائے60،کھجور ایرانی460کی بجائے500سے520جبکہ کھجور اصیل 430کی بجائے450سے470روپے کلو تک فروخت ہوئی۔
حکومت کے زیر انتظام بازاروں میں پھل اور سبزیاں مقررہ نرخوں پر فروخت ہوئے تاہم آبادی کے تناسب سے بازاروں کی تعداد کم ہونے اور رسائی نہ ہونے کے باعث عوام کی ایک بڑی تعداد کواوپن مارکیٹوں کا رخ کرنا پڑا۔











