وزیر خزانہ کی لندن میں برٹش امریکن ٹوبیکو (BAT) کے سینئر نمائندوں سے ملاقات
برطانیہ(نمائندہ خصوصی) برطانیہ کے سرکاری دورے کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے برٹش امریکن ٹوبیکو (BAT) کے سینئر نمائندوں سے ملاقات کی، جس میں غیر قانونی تجارت، جعلی تمباکو مصنوعات، اور پاکستان میں موجودہ ایکسائز ڈیوٹی نظام کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔BAT نے پاکستان کے تمباکو شعبے میں اسمگلنگ اور جعلی مصنوعات کے بڑھتے ہوئے چیلنج پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کمپنی نے اس بات پر زور دیا کہ بلند اور غیر متوازن ایکسائز ڈیوٹی ڈھانچے نے غیر قانونی کاروبار کو غیر ارادی طور پر فروغ دیا ہے، جس سے باضابطہ مارکیٹ کو نقصان پہنچا ہے اور حکومت کو بھاری ٹیکس آمدن سے محروم کر دیا گیا ہے۔
BAT کے نمائندوں نے تجویز دی کہ ایک معقول اور پیش گوئی کے قابل ڈیوٹی نظام سے غیر قانونی تجارت پر قابو پایا جا سکتا ہے، صارفین کو قانونی چینلز کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے، اور وقت کے ساتھ ساتھ حکومت کے لیے زیادہ ٹیکس آمدن پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسا فریم ورک شعبے کو مرکزی دھارے میں لانے، جائز کاروبار کے فروغ، اور مؤثر ریگولیٹری نگرانی کے لیے مددگار ہوگا۔
جواب میں وزیر خزانہ اورنگزیب نے اس معاملے کو ایک جائز تشویش قرار دیتے ہوئے BAT کو یقین دلایا کہ یہ مسئلہ آئندہ وفاقی بجٹ کی تیاری کے دوران سنجیدگی سے زیر غور آئے گا۔ انہوں نے حکومت کے وسیع تر عزم کا اعادہ کیا جس میں محصولات میں اضافہ، مختلف شعبوں کی رسمی حیثیت اختیار کروانا، اور غیر قانونی تجارت کے خلاف مؤثر نفاذ شامل ہیں۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات انصاف، کارکردگی، اور معاشی شمولیت کے اصولوں کی روشنی میں کی جا رہی ہیں۔
ملاقات کا اختتام اس باہمی مفاہمت پر ہوا کہ عوامی صحت کے مقاصد اور مارکیٹ کو رسمی شکل دینے کے درمیان توازن قائم رکھنا ناگزیر ہے، اور پاکستان میں ایک مستحکم اور قواعد و ضوابط پر مبنی تجارتی ماحول کو فروغ دینا دونوں فریقین کی مشترکہ ترجیح ہے۔












