حکومتی کنٹرول ختم کرنے سے قلت ختم، نئی دواؤں کی دستیابی میں بہتری: فارما سیوٹیکل انڈسٹری
اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ) مقامی فارماسوٹیکل انڈسٹری کا کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتوں پر حکومتی کنٹرول ختم کرنے کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں دواؤں کی قلت کا خاتمہ ہونے لگا ہے اور وہ ادویات دوبارہ دستیاب ہو گئی ہیں جو مہینوں سے مارکیٹ سے غائب تھیں۔ ادویات کی قیمتوں پر حکومتی کنٹرول کی پالیسی میں تبدیلی کے نتیجے میں ان دواؤں کی فراہمی ممکن ہو گئی ہے جو پیداوار پر لاگت زیادہ ہونے کے باعث بند ہو چکی تھیں۔
ان خیالات کا اظہار پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسییشن کے چیئرمین توقیر الحق نے پیر کے روز اپنے دفتن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جب ایک دوا کی قیمت اتنی کم ہو کہ اسے بنانا ممکن نہ رہے، تو وہ مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہے۔ قیمتوں میں مناسب اضافے کے بعد یہ ادویات دوبارہ مارکیٹ میں آ گئی ہیں۔توقیر الحق کا کہنا تھا کہ نئے نظام کے تحت دوا ساز کمپنیاں قیمتوں کو مہنگائی اور پیداواری لاگت کے مطابق ایڈجسٹ کر سکتی ہیں۔ تاہم زندگی بچانے والی اور ضروری ادویات، جن کی تعداد 460 سے زیادہ ہے، اب بھی قیمتوں کے سخت ضابطوں کے تحت ہیں۔ یہ ماڈل دنیا کے کئی ممالک میں رائج طریقہ کار سے ہم آہنگ ہے، جو کہ ایک طرف دواؤں کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے اور دوسری جانب اہم ادویات کو عوام کی پہنچ میں رکھتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی کمپنیوں نے دواؤں کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے جبکہ کچھ غیر ملکی کمپنیاں بھی پاکستان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے پر غور کر رہی ہیں۔ اس فیصلے سے وہ مریض بھی مستفید ہو رہے ہیں جو پہلے جعلی یا غیر معیاری دواؤں پر انحصار کرنے پر مجبور تھے۔توقیر الحق نے ایک دعوی کیا کہ کئی ایسی ادویات جن کی قیمتوں کے تنازعات برسوں سے التوا کا شکار تھے، اب مارکیٹ دستیاب ہو گئی ہیں۔ ان میں انسولین، اینٹی بایوٹکس، دل کی بیماریوں کی ادویات شامل ہیں جو مریضوں کو ایک بار پھر میسر آ رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صنعتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 تک پاکستان کی دوا سازی کی مارکیٹ ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں 20 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اگرچہ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ اور نایاب دواؤں کی واپسی ہے، ماہرین کے مطابق حقیقی ترقی 15 سے 16 فیصد کے درمیان ہے جو مارکیٹ کے استحکام کی نشاندہی کرتی ہے۔
یہ پالیسی دواؤں میں استعمال ہونے والے خام مال کی مقامی پیداوار کی راہ ہموار کرے گی، جس سے پاکستان کی 90 فیصد درآمدی انحصار میں کمی آئے گی۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) سمیت مختلف سرکاری و نجی شراکت داریوں کے ذریعے مقامی سطح پر دوا سازی کے منصوبے زیر غور ہیں۔اس کے علاوہ نوجوان فارماسسٹس، ٹیکنیشنز اور کوالٹی اشورنس ماہرین کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔ بہتر قیمتوں سے صنعت میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، عالمی اسناد کے حصول اور دواؤں کی برآمدات میں اضافے کی راہ بھی ہموار ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کچھ حلقوں میں قیمتوں میں اضافے پر تشویش پائی جاتی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دواؤں کی دستیابی، جعلی ادویات سے بچاؤ اور پیداواری تسلسل جیسے بڑے فوائد ان خدشات پر حاوی ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق حالیہ مہینوں میں دواؤں کی قلت میں واضح کمی آئی ہے اور مریضوں کو وہ ادویات دوبارہ دستیاب ہو رہی ہیں جو طویل عرصے سے نایاب تھیں۔











