مہمند ڈیم کی تعمیر میں اہم پیشرفت: مین ڈیم کی تعمیر کا آغاز
مہمند (سید جاوید حسن شاہ)مہمند ڈیم منصوبے پر ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے، جہاں مین ڈیم کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو نے پراجیکٹ کا دورہ کیا اور جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران چیئرمین واپڈا انجینئر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سجاد غنی بھی موجود تھے۔مین ڈیم کی تعمیر سے قبل اہم مراحل جیسے ریور ڈائیورشن، ڈیم فاؤنڈیشن سمیت متعدد بنیادی اہداف پہلے ہی مکمل کیے جا چکے ہیں۔

منصوبے کی 14 سائٹس پر تعمیراتی کام جاری ہے جن میں ڈائیورشن سسٹم، ان ٹیک ٹنل، سپل ویز، اور پاور ہاؤس شامل ہیں۔ ڈیم کی تکمیل سال 2027-28 تک متوقع ہے۔وفاقی وزیر میاں محمد معین وٹو نے کہا کہ پانی اور بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کا مکمل ادراک ہے، اور ہم واپڈا کے زیر تعمیر منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مہمند ڈیم کی بروقت تکمیل سے نہ صرف پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ ہوگا بلکہ پشاور سمیت دیگر علاقوں کو پینے کے پانی اور بجلی کی فراہمی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

213 میٹر بلند مہمند ڈیم دنیا کا پانچواں بڑا CFRD (Concrete-Faced Rockfill Dam) ہے۔ ڈیم میں 1.29 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے اور اس سے 18 ہزار ایکڑ نئی زمین سیراب کی جا سکے گی۔ پشاور شہر کو روزانہ 300 ملین گیلن پینے کا پانی میسر آئے گا۔ منصوبے سے سالانہ 2.86 ارب یونٹ بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کی جائے گی۔











