چشمہ 5 نیوکلیئر پاور پلانٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، پاکستان نیوکلیر باور پیدا کرنے والے 20 سر فہرست ملکوں میں شامل ہے ، 8 ہزار میگا واٹ نیوکلیئر پاور کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ، جنرل مینجر چشمہ کمپلیکس
اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ) چشمہ 5 نیوکلیئر پاور پلانٹ پر کام تیزی سے جاری ہے اور تکمیل کے بعد یہ پراجیکٹ قومی گرڈ میں 1200 (بارہ سو) میگاواٹ محفوظ، ماحول دوست اور سستی بجلی کا حصہ ڈالے گا۔ چشمہ نیوکلیئر پاور کمپلیکس کے جنرل مینجر انجینئر حبیب الرحمن نے بتایا کہ پاکستان کا ارادہ ہے کہ نیوکلیئر توانائی کی پیداواری صلاحیت کو 8 ہزار میگاواٹ تک بڑھایا جائے تاکہ نیوکلیئر انرجی کو ملک کی پائیدار اور سستی انرجی مکس کا قابل بھروسہ جزو بنایا جا سکے۔ وہ گزشتہ روز اسلام آباد سے آئے ہوئے صحافیوں کے ایک گروپ کے چشمہ نیوکلیئر کمپلیکس کے دورے کے دوران بریفنگ دے رہے تھے۔
اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں کو چشمہ کمپلیکس کے مختلف فعال اور زیر تعمیر یونٹس کا دورہ بھی کروایا گیا، جہاں انہیں پلانٹس کی کارکردگی، حفاظتی نظام، تکنیکی عمل اور ماحولیاتی پہلوؤں پر تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ انجینئر حبیب الرحمن نے کہا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان 20 سر فہرست ممالک میں ہوتا ہے جو نیوکلیئر سے بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ ملک کے چھ فعال نیوکلیئر ری ایکٹرز ہیں جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 3530 (تین ہزار پانچ سو تیس) میگاواٹ ہے، اور چشمہ 5 کی تکمیل کے بعد یہ بڑھ کر 4730 (چار ہزار سات سو تیس) میگاواٹ ہو جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ چشمہ 5 منصوبہ جدید ترین Hualong One (HPR1000) ماڈل پر مبنی ہے، جو کہ تیسری نسل کا پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور چین کی نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن کے باہمی تعاون سے کی جا رہی ہے، اس کا پہلا کنکریٹ 30 دسمبر 2024 کو ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نیوکلیئر پاور ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ امریکہ، جاپان، برطانیہ اور جنوبی کوریا جیسے ترقی یافتہ ممالک جنہوں نے ماضی میں نیوکلیئر توانائی کی پیداوار میں کمی یا اسے بتدریج ختم کرنے کا ارادہ کر لیا تھا، اپنی توجہ کا ازسر نو تعین کر رہے ہیں اور تیزی سے نئے پلانٹس تعمیر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیوکلیئر پاور سستی، محفوظ اور ماحول دوست توانائی کا مؤثر ذریعہ ہے۔ سال 2024 کے دوران پاکستان میں بجلی کی کل سپلائی میں نیوکلیئر پاور کا حصہ قریبا 13 (تیرہ) فیصد رہا، جبکہ دسمبر 2024 میں اس کا شیئر انتہائی حد قریبا 26.5 (چھبیس اعشاریہ پانچ) فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چشمہ 5 جیسے منصوبے نہ صرف ملک کی توانائی کی بڑھتی ضروریات کو پورا کرتے ہیں بلکہ مقامی صنعت، تربیت یافتہ افرادی قوت اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔ مقامی آلات سازی اور فنی مہارت میں خود انحصاری کی جانب یہ ایک مثبت قدم ہے۔
انہوں نے اس امر کو دوہرایا کہ نیوکلیئر انرجی کو ملکی ترقی اور خود کفالت کا اہم ستون بنانے کے لیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ 8 ہزار میگاواٹ نیوکلیئر صلاحیت کا ہدف اس وژن میں کلیدی سنگ میل ہے۔











