ورلڈ مائنورٹیز الائنس کی جانب سے سنوکر چیمپئن بابر مسیح کو بھارتی لیجنڈ پنکج ایڈوانی کے خلاف تاریخی کامیابی پر خراجِ تحسین

اسلام آباد (سید جاوید حسن شاہ)سابق وفاقی وزیر جے سالک کی رہائشگاہ پر ورلڈ مائنورٹیز الائنس کی جانب سے ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان کے معروف سنوکر چیمپئن بابر مسیح کو بھارت کے لیجنڈ کھلاڑی پنکج ایڈوانی کے خلاف شاندار کامیابی پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر مسیح نے اپنی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس جذباتی سفر کا ذکر کیا جس نے انہیں اس مقام تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے بہت محنت کی، لیکن یہ اللہ کا کرم ہے کہ مجھے اتنی بڑی کامیابی نصیب ہوئی۔ ہر کامیابی خوشی کا باعث بنتی ہے، مگر جب بھارت کے خلاف میچ کا اعلان ہوا تو عوامی ردعمل نے مجھے حیران کر دیا۔ ہر طرف سے فون آ رہے تھے کہ ’یہ میچ جیتنا ہے‘۔ حالیہ کشیدگی کے بعد یہ جیت ایک اور بڑی کامیابی محسوس ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ پنکج ایڈوانی جیسے لیجنڈ، جن کے 25 سے 30 بین الاقوامی ٹائٹلز ہیں، انہوں نے پہلا فریم جیتا، لیکن پھر میں نے چار مسلسل فریمز جیت کر میچ اپنے نام کیا۔

بابر مسیح نے اپنے کیریئر کی مشکلات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں تین بار ایشین چیمپئن، ایک بار ورلڈ چیمپئن رہ چکا ہوں اور چار گولڈ، سات سلور اور سات برانز میڈلز جیت چکا ہوں، مگر مجھے کبھی وہ پذیرائی اور انعامات نہیں ملے جن کا میں حقدار تھا۔ فیڈریشن صرف آفیشل ٹورز میں سپورٹ کرتی ہے، اور وہ بھی اکثر وعدہ خلافیوں کے ساتھ، جبکہ پرائیویٹ ٹورز کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
جے سالک، بانی ورلڈ مائنورٹیز الائنس، نے بابر مسیح کی ثابت قدمی اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی حالات کے تناظر میں بابر کی یہ جیت جنگ کے بعد ایک اور خوشی کی خبر ہے۔ افسوس ہے کہ ایسے نوجوان ہیروز کو حکومتی عدم توجہی کے باعث احساس کمتری کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ ریاست کو ایسے باصلاحیت کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور میڈیا کو بھی ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
ورلڈ مائنورٹیز الائنس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بابر مسیح کو فوری طور پر سرکاری سطح پر تسلیم کرے، انعام دے اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کے لیے مستقل سپورٹ کی پالیسی وضع کرے۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں