تمباکو ایکسپورٹ پر عائد ٹیکس کسان پر نہیں، صرف کمپنیوں پر لاگو ہوتا ہے: ماہرین
اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ): تمباکو ایکسپورٹ پر عائد ٹیکس کے حوالے سے پائے جانے والے بعض تحفظات اور غلط فہمیوں کے درمیان ماہرین نے واضح کیا ہے کہ گرین لیف تھریشنگ یونٹس میں پراسیس ہونے والے تمباکو پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے 390 روپے فی کلو گرام ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل ٹیکس نافذ ہے، تاہم یہ ٹیکس براہِ راست کسانوں پر لاگو نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق مذکورہ ٹیکس صرف ان کمپنیوں پر لاگو ہوتا ہے جو تمباکو خریدتی، پراسیس کرتی یا برآمد کرتی ہیں۔ یہ ایک ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل ٹیکس ہے جسے متعلقہ کمپنیاں بعد ازاں ایف بی آر کے ساتھ اپنے ٹیکس گوشواروں میں ایڈجسٹ یا کلیم کر سکتی ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کاروباری سرگرمیوں کی دستاویزی شکل (ڈاکومنٹیشن) کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمباکو کاشت کرنے والے کسان کو یہ ٹیکس کسی صورت ادا نہیں کرنا پڑتا اور نہ ہی اس کی مالی ذمہ داری کسان پر عائد ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک متعدد مقامی تمباکو ایکسپورٹ کمپنیوں نے اس ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ یا ریفنڈ کلیم نہیں کیا۔ ان کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ٹیکس کلیم کرنے کی صورت میں کمپنیوں کو اپنی مجموعی برآمدات، واجب الادا ٹیکس اور ادا کردہ محصولات کا مکمل ریکارڈ ایف بی آر کے سامنے پیش کرنا پڑتا ہے، جس سے مالی معاملات کی مکمل جانچ پڑتال ممکن ہو جاتی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب یہ ٹیکس برآمد کنندگان اور سگریٹ ساز کمپنیوں نے ادا کرنا ہے اور بعد ازاں قانونی طریقہ کار کے تحت ایڈجسٹ بھی ہو جانا ہے تو اس پر اعتراض کی گنجائش محدود رہ جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ بعض کمپنیوں کی جانب سے کاروباری سرگرمیوں کی مکمل دستاویز بندی سے گریز ہے، کیونکہ شفاف دستاویز بندی کی صورت میں اصل واجب الادا ٹیکس اور مالی ذمہ داریوں کی تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں۔









