پی سی سی آر کی کنوینر ڈاکٹر نکہت شکیل کا بجٹ تقریر میں تمباکو پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ
اسلام آباد (عمر حیات خان): پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال (PCCR) کی کنوینر ڈاکٹر نکہت شکیل نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تمباکو مصنوعات پر ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ کرے، اور پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونے والے سنگین صحتی اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا۔ بجٹ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نکہت شکیل نے سوال اٹھایا کہ جب متعدد دیگر اشیاء پر ٹیکس بڑھائے گئے ہیں تو تمباکو مصنوعات کو اضافی ٹیکس سے کیوں مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، اگر ٹیکس لگانے ہیں تو تمباکو مصنوعات پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جانا چاہیے۔ 2023 کے بعد سے تمباکو مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ایسے وقت میں جب تقریباً ہر چیز پر ٹیکس بڑھایا جا رہا ہے، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ تمباکو جیسی غیر ضروری اور نقصان دہ شے کو کیوں نظر انداز کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر نکہت شکیل نے پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث پیدا ہونے والے صحتی بوجھ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دستیاب شواہد کے مطابق ہر سال تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جو یومیہ تقریباً 438 اموات کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا، “تمباکو نوشی محض ایک ذاتی انتخاب نہیں بلکہ ایک سنگین عوامی صحت کا بحران ہے۔ ہر روز سیکڑوں افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث اپنی جانیں گنواتے ہیں، جس سے خاندانوں، معاشروں اور قومی نظامِ صحت پر بھاری بوجھ پڑتا ہے۔
بچوں میں تمباکو کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر نکہت شکیل نے کہا کہ اندازاً پاکستان میں روزانہ تقریباً 1,200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ انہوں نے بچوں اور آنے والی نسلوں کو نکوٹین کی لت اور اس کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے مؤثر اور سخت تمباکو کنٹرول اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر نکہت شکیل نے مزید کہا کہ بین الاقوامی شواہد مسلسل یہ ثابت کرتے ہیں کہ تمباکو مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ تمباکو کے استعمال میں کمی لانے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے، خصوصاً بچوں کے درمیان۔
انہوں نے کہا، جب ٹیکس بڑھتے ہیں تو استعمال کم ہوتا ہے۔ تمباکو پر زیادہ ٹیکس نہ صرف جانیں بچا سکتے ہیں بلکہ نوجوانوں کو تمباکو نوشی شروع کرنے سے بھی روک سکتے ہیں، جبکہ اس سے حاصل ہونے والی اضافی آمدن صحت اور سماجی ترقی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔
پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال (PCCR) مسلسل مضبوط تمباکو کنٹرول پالیسیوں کی حمایت کرتا رہا ہے، کیونکہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ تمباکو کا استعمال بچوں کی صحت، فلاح و بہبود اور مستقبل پر براہِ راست منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔











