455 سے زائد سگریٹ برانڈز ٹیکس نیٹ سے باہر، ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ
اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ): پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے خلاف خلاف سول سوسائٹی، تاجر تنظیموں اور اسٹیک ہولڈرز نے “بہترین پاکستان” کے نام سے ملک گیر آگاہی مہم شروع کردی ہے۔جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غیر قانونی سگریٹ کاروبار کے باعث قومی خزانے کو سالانہ ایک ارب امریکی ڈالر (قریبا 300 ارب روپے ) کا بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
مہم کے تحت جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں اس وقت 455 سے زائد سگریٹ برانڈ ٹیکس سٹیمپ کے بغیر فروخت ہو رہے ہیں جبکہ 355 سگریٹ برانڈ حکومت پاکستان کی منظور کردہ ہیلتھ وارننگ کے بغیر سرعام فروخت ہو رہے ہیں۔ یہ سگریٹ برانڈ مکمل طور پر ایف بی آر کے ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ یہ برانڈز نہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ادا کررہے ہیں، نہ جنرل سیلز ٹیکس جس کے باعث ملکی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کے ساتھ قانونی صنعت کو شدید نقصان اور مارکیٹ میں غیر منصفانہ مقابلہ پیدا ہورہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے نافذ کردہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے باوجود مارکیٹ میں بڑی تعداد میں ایسے سگریٹ پیکٹ موجود ہیں جن پر پاکستانی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے تحت ٹیکس اسٹیمپ یا تو موجود نہیں یا ان کی جگہ جعلی ٹیکس سٹیمپ استعمال کی جارہی ہیں، جس سے ٹیکس چوری کے منظم نیٹ ورک کی نشاندہی ہوتی ہے۔“بہترین پاکستان” مہم میں مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت نے سگریٹ کی پیداوار اور ترسیل کی نگرانی کیلئے جدید ڈیجیٹل نظام ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعارف کرایا تھا تاکہ ہر پیکٹ کی مکمل ٹریکنگ ممکن ہو، تاہم اس پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ریونیو لیکیج مسلسل بڑھ رہی ہے۔
مہم کا مرکزی نعرہ “No Stamp. No Taxes. Pakistan Pays the Price” اب سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں تیزی سے توجہ حاصل کررہا ہے۔ ماہرین معیشت کے مطابق غیر قانونی سگریٹ کی تجارت صرف ٹیکس چوری تک محدود نہیں بلکہ اس کے منی لانڈرنگ اور منظم جرائم سے بھی تعلق کے خدشات موجود ہیں، جس سے ریاستی اداروں پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر #AbKhasaraNahinGawara اور #StopTaxEvaders کے ہیش ٹیگز کے ساتھ مہم زور پکڑ رہی ہے، جہاں شہریوں اور کاروباری طبقے نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی سگریٹ بنانے والی فیکٹریوں اور گوداموں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، اور اسمگلنگ روکنے کیلئے بارڈر مینجمنٹ کو مزید سخت کیا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات اور آئی ایم ایف پروگرام کے تناظر میں ریونیو لیکیج کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی، اور اگر اس شعبے میں مؤثر اصلاحات نافذ کر دی جائیں تو قومی آمدن میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔










