امریکہ میں سکھ رہنما کے قتل کا مبینہ منصوبہ: امریکی ایجنٹ نے کیسے ’کرائے کا قاتل‘ بن کر انڈین شہری کو چکمہ دیا

امریکہ نے کہا ہے کہ نیو یارک میں اس کے ایک شہری اور علیحدگی پسند سکھ رہنما کے قتل کا منصوبہ ناکام بنایا گیا ہے۔ گرفتار انڈین شہری نکھل گپتا عرف ’نِک‘ پر الزام ہے کہ انھوں نے اس قتل کے لیے ایک ہٹ مین (کرائے کے قاتل) کی خدمات ایک لاکھ امریکی ڈالر کے عوض حاصل کرنے کی کوشش کی تھیں۔

امریکی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ ہٹ مین درحقیقت ایک ’انڈر کوور‘ فیڈرل ایجنٹ تھا، یعنی یہ شخص خفیہ طور پر قانون نافذ کرنے والے امریکی ادارے کے لیے کام کرتا تھا۔

52 سال کے نکھل گپتا چیک ریپبلک کی ایک جیل میں قید ہیں اور اُن کی امریکہ منتقلی زیر التوا ہے۔ پراسیکیوٹرز کی جانب سے عائد کیا گیا الزام ثابت ہونے کی صورت میں انھیں 20 سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

نکھل پر الزام ہے کہ انھوں سے انڈین حکومت کے ایک اہلکار نے براہ راست رابطہ کیا۔ دستاویزات میں اُس انڈین اہلکار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ان پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس نے مبینہ قتل کے منصوبے کا معاملہ اعلیٰ سطح پر انڈیا کے ساتھ اٹھایا ہے جس پر انڈین حکام نے ’حیرانی اور تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن اس معاملے پر اس قدر تشویش میں مبتلا ہوئے کہ انھوں نے ڈائریکٹر سی آئی اے ولیم برنز اور ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس ایورل ہینز پر مشتمل امریکی اٹیلیجنس کے اعلیٰ حکام کو انڈیا سے بات کرنے کے لیے روانہ کیا۔

دریں اثنا انڈین حکومت نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ نیو یارک میں اس کے ایک شہری اور علیحدگی پسند سکھ رہنما کے قتل کا منصوبہ ناکام بنایا گیا ہے۔ گرفتار انڈین شہری نکھل گپتا عرف ’نِک‘ پر الزام ہے کہ انھوں نے اس قتل کے لیے ایک ہٹ مین (کرائے کے قاتل) کی خدمات ایک لاکھ امریکی ڈالر کے عوض حاصل کرنے کی کوشش کی تھیں۔

امریکی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ ہٹ مین درحقیقت ایک ’انڈر کوور‘ فیڈرل ایجنٹ تھا، یعنی یہ شخص خفیہ طور پر قانون نافذ کرنے والے امریکی ادارے کے لیے کام کرتا تھا۔

52 سال کے نکھل گپتا چیک ریپبلک کی ایک جیل میں قید ہیں اور اُن کی امریکہ منتقلی زیر التوا ہے۔ پراسیکیوٹرز کی جانب سے عائد کیا گیا الزام ثابت ہونے کی صورت میں انھیں 20 سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

نکھل پر الزام ہے کہ انھوں سے انڈین حکومت کے ایک اہلکار نے براہ راست رابطہ کیا۔ دستاویزات میں اُس انڈین اہلکار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ان پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس نے مبینہ قتل کے منصوبے کا معاملہ اعلیٰ سطح پر انڈیا کے ساتھ اٹھایا ہے جس پر انڈین حکام نے ’حیرانی اور تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن اس معاملے پر اس قدر تشویش میں مبتلا ہوئے کہ انھوں نے ڈائریکٹر سی آئی اے ولیم برنز اور ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس ایورل ہینز پر مشتمل امریکی اٹیلیجنس کے اعلیٰ حکام کو انڈیا سے بات کرنے کے لیے روانہ کیا۔

دریں اثنا انڈین حکومت نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں