غزہ پر دوبارہ اسرائیلی بمباری، شام اور لبنان پر بھی حملے، جنگ کا دائرہ پھیلنے کا امکان
اسرائیل نے سات روزہ جنگ بندی کے بعد غزہ پر دوبارہ بمباری کے علاوہ جنگ کا دائرہ خطے میں پھیلانے کی کوشش شروع کرتے ہوئے شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافاتی علاقے اور لبنانی سرحد پر بھی حملے کردیے۔
شامی علاقے پر اسرائیلی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے روس کا کہنا ہے کہ کہ دمشق پر اسرائیلی حملہ شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی اورعالمی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
اسرائیلی افواج کی جانب سے لبنانی سرحد کوبھی نشانہ بنایا گیا جس میں 3 لبنانی شہری شہید ہوگئے، اسرائیلی حملوں کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے حزب اللہ نے بھی ایک گھنٹے میں اسرائیل پر پانچ حملے کردیے۔
دوسری جانب غزہ میں سات روزہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل افواج نے ایک بار پھر بربریت کا مظاہرہ شروع کردیا، اسرائیلی بمباری سے 3 صحافیوں سمیت 184 افراد شہید جبکہ 6 سو زخمی ہوگئے۔
اسرائیل نے خان یونس اور رفاح سمیت مختلف علاقوں میں 2 سو سے زائد مقامات پر بمباری کے علاوہ رفاح کے راستے فلسطینیوں کی امداد بھی بند کردی۔
غزہ پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں حماس نے بھی اسرائیلی شہروں پردرجنوں جوابی راکٹ حملے کیے جس کے باعث تل ابیب میں بھی سائرن بج اٹھے۔
ادھر اسرائیلی افواج نے حملے کرکے خود اپنے ہی یرغمالی شہریوں کو بھی قتل کردیا، اسرائیل نے حماس کی قید میں موجود 6 یرغمالیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔
بفرزون بنانےکی آڑ میں اسرائیل کی جانب سے شمالی غزہ پر قبضے کی بھی کوشش شروع کردی گئی ہیں، اسرائیل کا کہنا ہے کہ عرب ممالک کو غزہ میں بفرزون بنانے کے منصوبے سے آگاہ کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے خان یونس کےمشرقی علاقے پر بمباری کی
فلسطینی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے خان یونس کےمشرقی علاقے پر بمباری کی اور غزہ کےمغربی علاقے میں بھی بمباری کی جارہی ہے جب کہ غزہ پر اسرائیلی جاسوس طیارے نچلی پروازیں کررہے ہیں۔
فلسطینی میڈیا کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے علاقےجبالیہ میں گھرکو نشانہ بنایا ہے جب کہ غزہ کے مختلف علاقوں میں شدیدجھڑپیں جاری ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت نے اسرائیلی فضائیہ کی غزہ پربمباری سے کم ازکم 109 فلسطینی شہریوں کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے جس میں بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی حملوں میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل اعتراف کرے کہ غزہ میں جنگی جرائم کر رہا ہے: سابق ڈائریکٹر ہیومن رائٹس واچ
اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ حملوں اور امدادی کارروائیاں روکنے کے عمل پر ردعمل دیتے ہوئے ہیومن رائٹس واچ کے سابق ڈائریکٹر کینیتھ روتھ نے کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی کرمنل کورٹ کو اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے، کل ہی اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں کا مقدمہ بھی ہو سکتا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں اسرائیلی سویلین کوآرڈینیشن ایجنسی کی جانب سےغزہ میں امدادی سامان روکنے سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ اسرائیل کو اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ غزہ میں عالمی جنگی جرائم کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سویلینز کیلئے انسانی امداد کی اجازت دینا ایک قانونی ذمہ داری ہے نہ کی حماس کے کسی قدم سے جڑی ہوئی ہے کہ حماس کچھ کرے اور امداد روک دی جائے۔











