بھٹو کیس کی طرح کیا ہم نواز شریف کو انصاف کیلئے 45 سال انتظار کریں؟ جاوید لطیف

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہےکہ آج خوشی ہے کہ 45سال بعد ذوالفقاربھٹو کے عدالتی قتل کا کیس سنا جارہا ہے لیکن کیا اس وقت جو ناانصافی ہوئی اس کی تلافی ہوسکتی ہے؟ کیا ہم نوازشریف کو انصاف کی فراہمی کیلئے 45سال انتظار کریں؟لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید لطیف نے کہا کہ ہم انسداد دہشتگردی عدالت میں 5 منٹ لیٹ ہو جاتے تو ضمانت خارج ہوجاتی، لاڈلے کے لیے صبح 8 بجے عدالت لگتی تھی اور رات 8 بجے وہ کہتا تھا ابھی حاضری کا موڈ نہیں مگر جو آئین اور قانون کی بات کرتے تھے ان پر غداری کے مقدمات تھے۔انہوں نے کہا کہ آج خوشی ہے کہ 45سال بعد ذوالفقاربھٹو کے عدالتی قتل کا کیس سنا جارہا ہے، کیا اس وقت جو ناانصافی ہوئی اس کی تلافی ہوسکتی ہے، نوازشریف کو بار بار سزا دی جاتی رہی اور 2017 میں انصاف کا قتل ہوا، کیا ہم نوازشریف کو انصاف کی فراہمی کیلئے 45سال انتظار کریں؟ جس نے پاکستان کو چولیں ہلادیں اس کو آج بھی جیل پکی دیسی مرغی چاہیے۔لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ جو 190ملین پاؤنڈ کھا جائے وہ صادق اور امین ہو گا ؟ جو بگاڑپیدا کرے اسے جیل میں بھی 10کمروں پر مشتمل سب کچھ فراہم کیا جاتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں