استاد محض معلم نہیں بلکہ رہنما اور شخصیت ساز ہے، تعلیم کا اصل مقصد باکردار نسل کی تیاری ہے، عفت سجاد،ڈپٹی سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی
اسلام آباد(غلام مرتضی) حلقہ خواتین جماعت اسلامی اسلام آباد کی تعلیمی کمیٹی کے تحت منعقد ہونے والے ٹیچر کنونشن “مہمار جہاں تو ہے” میں عصرِ حاضر کے تعلیمی چیلنجز، استاد کے بدلتے کردار اور تعلیمی اصلاحات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان عفت سجاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ استاد صرف ایک معلم نہیں بلکہ ایک رہنما، شخصیت ساز اور معاشرے کی تعمیر کرنے والا فرد ہے۔ انہوں نے کہا کہ استاد طلبہ کو صرف کتابی علم نہیں دیتا بلکہ ان میں سوچنے، سمجھنے اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق استاد ایک وژن رکھنے والی شخصیت ہے جو طلبہ کو ٹیم ورک، نظم و ضبط اور زندگی کے چیلنجز سے نمٹنے کا شعور دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف امتحانی کامیابی نہیں بلکہ ایک باشعور اور باکردار نسل کی تیاری ہے۔
ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی اسلام آباد قدسیہ ناموس نے کہا کہ پاکستان میں تعلیمی صورتحال تشویشناک ہے جہاں لاکھوں بچے منشیات اور تعلیم سے محرومی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال محض تعلیمی نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی بحران ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے “بنو قابل” پروگرام اور دیگر تعلیمی اقدامات کو اس بحران سے نمٹنے کی عملی کوشش قرار دیا۔ مذاکرے میں ماہرین تعلیم اور اساتذہ نے کہا کہ موجودہ دور میں تعلیم کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ آج کا استاد صرف تدریس تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کی توجہ حاصل کرنے، اخلاقی تربیت اور شخصیت سازی جیسے بڑے چیلنجز سے بھی نبرد آزما ہے۔

شرکاء نے کہا کہ جدید دور میں مصنوعی ذہانت اور دیگر تعلیمی ٹولز کو استعمال کرنا ضروری ہے، تاہم استاد کی شفقت اور انسانی رہنمائی کا کوئی متبادل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں نمبروں کو زیادہ اہمیت دینے کے باعث طلبہ کی تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ اصل توجہ کردار سازی پر ہونی چاہیے۔ کنونشن کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ استاد، والدین اور تعلیمی ادارے مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ نئی نسل کی بہتر تربیت کے لیے کردار ادا کریں۔












