عارف حبیب گروپ کا پی آئی اے کے باقی 25 فیصد شیئرز بھی خریدنے کا اعلان

(ویب ڈیسک): عارف حبیب گروپ کنسورشیم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) میں حکومت کے باقی ماندہ 25 فیصد حصص خریدنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد قومی فضائی کمپنی کا مکمل اختیار اس کے پاس آ جائے گا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق عارف حبیب لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر شاہد علی حبیب نے بتایا کہ ’کنسورشیم نے اپنا ذہن بنا لیا ہے کہ اس نے 25 فیصد باقی ماندہ حصص بھی خریدنے ہیں۔ ان کے مطابق اپریل میں یہ فیصلہ لینا ہے اور اس کے بعد بارہ مہینے میں اس کی ادائیگی کرنی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پی آئی اے کے سو فیصد حصص کی خریداری کے بعد یہ مکمل طور پر نجی حیثیت میں کام کر سکے گی یعنی ایئر لائن کا مکمل کنٹرول نجی شعبے کے پاس ہو گا اور ائیر لائن سرکاری نامزد ارکان سے آزاد ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کے عوض 75 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجی کاری کا مقصد خسارے میں جانے والی فضائی کمپنی کو عملی تنظیمِ نو، طیاروں کے بیڑے میں توسیع اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی خدمات میں بہتری کے ذریعے منافع بخش بنانا تھا۔ گذشتہ دسمبر میں 75 فیصد حصص کی نجکاری کے بعد حکومت نے کنسورشیم کو باقی حصص کی خریداری کے لیے 90 روز کی مہلت دی ہے، جن کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے بتائی گئی ہے اور آخری تاریخ اپریل کے اختتام پر مقرر ہے۔ جنوری میں طے پانے والے معاہدے کے تحت رقوم کی منتقلی کے لیے 12 ماہ کی مدت رکھی گئی ہے، جس سے اسے قابلِ عمل قرار دیا گیا ہے۔
نجکاری کمیشن کے ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا تھا کہ کامیاب گروپ کو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص فروخت کیے جائیں گے تاہم کامیاب بولی دہندہ کے پاس بقیہ 25 فیصد حاصل کرنے کا بھی موقع ہوگا۔ خیال رہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی یہ دوسری کوشش تھی۔ سنہ 2024 میں اس سلسلے میں پہلی کوشش اس وقت ناکام ہوئی تھی جب قومی ایئرلائن کی خریداری کے لیے صرف ایک کمپنی کی جانب سے صرف دس ارب روپے کی بولی لگائی گئی تھی جبکہ حکومت نے اس کی کم از کم قیمت 85 ارب روپے مقرر کی تھی۔ پی آئی اے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جس کے سرمائے کا تقریباً 96 فیصد حصہ حکومت کے پاس ہے۔ اس کا شمار حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ان اداروں میں ہوتا ہے جو قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔
پی آئی اے نجکاری اور اس کے مالیاتی معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے اربوں روپے خالص منافع کمانا اس لیے مشکل نہیں رہا کہ حکومت نے اس کے ذمے کئی سو ارب روپے کے قرضے اور ان پر سود کی ادائیگی اپنے ذمے لے لی، جس کے بعد اس کی بیلنس شیٹ بالکل کلین ہو گئی کہ جس نے ائیر لائنز کو منافع بخش بنا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت کئی سو ارب روپے قرض اور اس پر سود کی ادائیگی کو اپنے کھاتے میں لے لی گی تو اس کے بعد ائیر لائنز کا منافع بخش ہونا حیران کن نہیں رہ جاتا۔
پاکستان کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پی آئی اے کے ذمے 850 ارب روپے کا قرض ہے جس کا بڑا حصہ حکومت نے اپنے ذمہ لے لیا اور اس کے بعد اس پر سود کی ادائیگی بھی حکومت کے کھاتے میں چلی گئی تو اس کے بعد اس کے آپریشنل منافع بخش بننے میں کوئی مشکل نہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں