غیر قانونی سگریٹ کے خلاف وفاق اور صوبوں کا مشترکہ کریک ڈاؤن، قومی خزانے کو بھاری نقصان کا انکشاف
اسلام آباد (غلام مرتضی): غیر قانونی تمباکو اور سگریٹ کی بڑھتی ہوئی تجارت کے خلاف وفاقی حکومت نے صوبائی حکام کے ساتھ مل کر ملک بھر میں کریک ڈاؤن شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے آکسفورڈ اکنامکس کی جانب سے پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی تجارت پر تحقیقاتی رپورٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتیں بغیر ٹیکس والے سگریٹ برانڈز کی فروخت کے خاتمے کے لیے سخت کارروائیاں تیز کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سگریٹ کی تجارت کو قابو کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ دستاویزی معیشت کو بھی کمزور اور ایماندار ٹیکس دہندگان کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد غیر قانونی سگریٹ فیکٹریاں پہلے ہی بند کی جا چکی ہیں جبکہ غیر قانونی مصنوعات فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف چھاپے جاری ہیں۔ آکسفورڈ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کا حجم مجموعی مارکیٹ کے نصف سے زائد ہو چکا ہے، جو کہ عالمی سطح پر بلند ترین شرحوں میں شامل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں تقریباً 43.5 ارب غیر قانونی سگریٹ زیر گردش ہیں جبکہ مجموعی استعمال گزشتہ دہائی میں تقریباً 80 ارب سالانہ کے قریب مستحکم رہا ہے، تاہم قانونی فروخت مسلسل کم ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایکسائز ڈیوٹی میں نمایاں اضافے اس رجحان کی بڑی وجہ ہیں۔ 2022 کی پہلی سہ ماہی سے 2023 کی دوسری سہ ماہی کے دوران حقیقی ٹیکسز میں 107 فیصد اضافہ ہوا، جس سے قانونی اور غیر قانونی سگریٹ کے درمیان قیمتوں کا فرق بڑھ گیا۔ غیر قانونی سگریٹ اوسطاً 36 فیصد سستے ہونے کے باعث صارفین بڑی تعداد میں ان کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی سگریٹ کی پیداوار کا بڑا حصہ ملک کے اندر ہی ہوتا ہے، جس میں تقریباً 64 فیصد ٹیکس چوری شدہ سگریٹ آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں تیار کیے جاتے ہیں، جبکہ باقی 36 فیصد افغانستان کے راستے اسمگل کیے جاتے ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات اور جنوبی کوریا سے منسلک برانڈز شامل ہیں۔ تحقیق کے مطابق سرحدوں کی کمزور نگرانی، منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور ناقص نفاذ اس غیر قانونی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ غیر قانونی سگریٹ کے باعث پاکستان کو 274 ارب سے 343 ارب روپے تک کا نقصان ہو رہا ہے، جو کہ قانونی سگریٹ سے حاصل ہونے والے ٹیکس ریونیو سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے طویل المدتی حکمت عملی، متوازن ٹیکس پالیسی، سرحدی نگرانی میں بہتری، سپلائی چین کی سخت نگرانی اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔










