ایچ ای سی میں سنیارٹی تنازع شدت اختیار کر گیا، حتمی فیصلہ چیئرمین کریں گے
اسلام آباد (سید جاوید حسن شاہ): ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) میں سنیارٹی کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے، تاہم اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے موصول ہونے والے جواب کے باوجود تنازع حل نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق طارق اقبال کے لین (Lien) سے متعلق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کوئی واضح رائے نہیں دی، جس کے بعد اب حتمی فیصلہ چیئرمین ایچ ای سی کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی کے تین ڈائریکٹر جنرلز (ڈی جیز) نے سنیارٹی کے معاملے پر ایچ آر ایم ونگ سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد معاملہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھجوایا گیا۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے طارق اقبال کے لین سے متعلق کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ ذرائع کے مطابق ایچ ای سی کے قواعد کے تحت ایم پی ون (MP-I) پر تعیناتی کے لیے لین کی سہولت نہیں دی جا سکتی، جبکہ طارق اقبال پنجاب میں ایم پی ون پر تعینات رہے اور اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد دوبارہ ایچ ای سی میں جوائن کر لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر تین ڈی جیز کو تقریباً پانچ سال قبل ترقی ملی تھی، جبکہ ایچ ای سی رولز کے مطابق دوبارہ جوائننگ کے بعد اگلی ترقی کے لیے کم از کم دو سالانہ خفیہ رپورٹس (ACRs) بھی لازمی ہوتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے اپنے عہدے کے آخری روز طارق اقبال کو گریڈ 20 میں ترقی دی تھی۔ بعد ازاں اس وقت کے تمام بورڈز کو کالعدم قرار دے دیا گیا، تاہم طارق اقبال کی ترقی برقرار رکھی گئی۔
ذرائع کے مطابق طارق اقبال گریڈ 21 میں ترقی کے خواہشمند ہیں، جبکہ دیگر ڈی جیز کا مؤقف ہے کہ سنیارٹی کے اعتبار سے وہ ان سے سینئر ہیں۔ اس تنازع کے باعث سنیارٹی کا معاملہ تاحال حل طلب ہے اور اب اس حوالے سے حتمی فیصلہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کریں گے۔












