ہزارہ صوبہ تمام آئینی تقاضے پورے کرتا ہے، سب سے پہلے ہزارہ صوبہ قائم ہونا چاہیے: سردار محمد یوسف

اسلام آباد (عمر حیات خان): صوبہ ہزارہ تحریک کے چیئرمین اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے ہزارہ صوبہ تمام آئینی تقاضے پورے کرتا ہے۔ ہمارا صوبہ خود کفیل ہو گا۔ صوبے ضرور بننے چاہیے ہیں لیکن سب سے پہلی صوبہ ہزارہ بننا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے سینیٹرمحمد طلحہ محمود کی رہائش گاہ پر صوبہ ہزارہ تحریک کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود، ممبر قومی اسمبلی بابر نواز، بریگیڈیئر شہزاد اعوان، مرکزی کوآرڈینیٹرز پروفیسر سجاد قمر، ممبران صوبائی اسمبلی شازیہ جدون، سیدہ سونیا شاہ، فائزہ ملک، پرنس فضل حق، سردار سید غلام، قاری محبوب الرحمن، سردار زاہد منان، مفتی جمیل الرحمن فاروقی، سردار اویس، نرگس ایڈووکیٹ، مولنا عبدالمجید ہزاروی، ملک سجاد اعوان، سردار مشتاق، سردار قاسم، مفتی ابوبکر صابری، قاری یوسف، محمد صادق کے علاوہ سینیر صحافیوں افضل بٹ، طارق چوہدری، صدر ہزارہ جرنلسٹس ایسوسی ایشن لقمان شاہ، تیمور جدون، شرجیل امجد راو سمیت دیگر نے شرکت کی۔
سردار محمد یوسف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ صوبہ کے لیے کے پی اسمبلی قرارداد پاس کر چکی ہے۔ سینیٹ میں بل موجود ہے۔ قومی اسمبلی مین دوبارہ بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر جگہ صوبوں کا مطالبہ ہے لیکن ساتھ کچھ علاقوں میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ ہزارہ میں موجود تمام قومی سیاسی جماعتیں ہزارہ صوبہ کے قیام پر متفق ہیں۔ لسانیات اور کلچر ایک اہم جزو ہے لیکن ہم لسانی یا نسلی بنیادوں پر صوبہ نہیں چاہتے اس سے خدانخواستہ ملک کمزور ہو گا۔ ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے۔ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ ویسے بھی ہزارہ میں ہندکو، گوجری، پشتو، شینا، کوہستانی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اور سترہ قبائل بستے ہیں۔اس لیے کسی کا یہ کہنا کہ یہ لسانی بنیاد پر ہے بالکل بھی درست نہیں۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ہزارہ صوبہ تحریک موجودہ عہد میں سب سے مضبوط تحریک ہے۔ ہمارا مقدمہ ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ تمام شرائط پر پورا اترتا ہے۔ صوبے بننے چاہیے ہیں لیکن سب سے پہلے ہزارہ صوبہ بننا لیے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت بہترین موقع ہے۔ پارلیمنٹ میں جتنی جماعتیں موجود ہیں وہ سب ہزارہ صوبہ کی حمایت کرتی ہیں اور ان کے سربراہان ہزارہ میں جا کر اس کی حمایت کر چکے ہیں.بریگیڈیئر شہزاد اعوان نے تفصیل سے ہزارہ صوبہ کے قیام اور اس کے لیے کی جانی والی جدوجہد کے بارے میں پریذینٹیشن پیش کی۔ اور بتایا کہ ہمارا صوبہ ہر لحاظ سے خود کفیل ہو گا۔ پاکستان کی نیک نامی لا باعث بنے گا۔ اور سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔
بابر نواز نے کہا کہ حطار انڈسٹریل ایریا سے اتنا ٹیکس آتا ہے جتنا کسی اور جگہ سے نہیں آتا۔ ہمارا جو شیر بنتا ہے وہ بھی ہمیں نہیں ملتا۔ مرکزی کوآرڈینیٹر پروفیسر سجاد ر نے کہا کہ محسن نقوی نے ایک اہم موقف کی حمایت کی ہے۔ نئے صوبے وقت کی ضرورت ہے۔ اس سے ملک مضبوط ہو گا۔ فیڈریشن مضبوط ہو گی۔ ہر صوبہ اپنے ریونیو کے لیے جدوجہد کرے گا۔ محسن نقوی آگے بڑھ کر اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور احسن طریقے سے ہزارہ سمیت دیگر صوبے بنائے جائیں۔
ممبران اسمبلی سونیا شاہ،فائزہ ملک، شازیہ جدون نے کہا کہ ہزارہ کے عوام نے الگ صوبے کے لیے تاریخی جدوجہد کی ہے۔ اب مسئلہ ایوانوں کا ہے۔ اور ہم اپنا کردار بخوبی ادا کریں گے۔ ہزارہ صوبہ تحریک شہداء کی امانت ہے ۔ اور جس تحریک میں شہداء کا خون ہو وہ کبھی ناکام نہیں ہو سکتی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں