1.1ارب ڈالر کے لئے پاک آئی ایم ایف بات چیت 18 مارچ تک جاری رہیگی،
اسلام آباد(غلام مرتضٰی )آئی ایم ایف مشن کیساتھ پاکستانی معاشی ٹیم کے مذاکرات شروع ہوگئے،مذاکرات 18 مارچ تک جاری رہینگے،زرائع کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے نئے معاشی پیکج پر بات کی تو یہ مذاکرات چار روز تک مزید آگے جاسکتے .مشن کی تعارفی میٹنگ وزیرخزانہ، گورنر اسٹیٹ بنک، وزیرتوانائی اور چئیرمین ایف بی آر سے ہوگئی،وزیرخزانہ، گورنر اسٹیٹ بنک اور وزیر توانائی کی آئی ایم ایف مشن سے الگ الگ ملاقاتیں ہونگیں،وزیرخزانہ محمداورنگزیب آئی ایم ایف مشن کو تعارفی سیشن میں حکومتی ترجیحات سے آگاہ کیا،گورنر اسٹیٹ بنک آئی ایم ایف مشن کو آئی ایم ایف اہداف پر عملدرآمدبارے آگاہ کیا.وزیرتوانائی بھی آئی ایم ایف مشن کو اہداف پر عملدرآمد سے آگاہ کیا،دوسرے اقتصادی جائزہ کے تحت پاکستان آئی ایم ایف کے تمام اہداف پر عملدرآمد کر چکا.دوسرے اقتصادی جائزہ کیلئے آئی ایم ایف کے 26 میں سے 25 اہداف پر عملدرآمد مکمل ہیں.مرکزی بنک سے گورنمنٹ کیلئے قرض حاصل نہ کرنے، بیرونی ادائیگیاں بروقت ادا کرنے کی شرط پوری کردی ہے،ٹیکس محصولات اور ریفنڈ ادائیگیوں سمیت پاور سیکٹر کے بقایاجات کو بروقت کلیئر کیا گیا، ٹیکس استثنی اور ٹیکس ایمنسٹی نہ دینے کی شرط پر بھی مکمل عملدرآمد کیا گیا، انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان کرنسی ایکسچینج میں 1.25 فیصد کے ریٹ پر عملدرآمد جاری ہوئے،بجلی نرخوں کی ریبیسنگ اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی شرط پر بروقت عملدرآمد کیا گیا، وزارت خزانہ حکام اہداف پر عملدرآمد کی رپورٹ آئی ایم ایف مشن کو فراہم کردی،اہداف کے مطابق ایس او ایز کے لاء میں ترمیم اور ترمیمی قانون پر عملدرآمد کی شرط مکمل نہیں ہوئی.نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پاکستان پوسٹ، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے لاء میں ترمیم نہ ہوئی.
دوسرے جائزہ مذاکرات 18 مارچ تک جاری رہیں گے، جس کے لیے پاکستان نے تمام اہداف مکمل کر لیے ہیں۔قلیل مدتی قرض پروگرام کے تحت یہ آخری جائزہ ہوگا اور جائزے کے بعد اسٹاف سطح معاہدے کی توقع ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق مذاکراتی کی کامیابی پر پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر کی آخری قسط ملے گی، قسط کی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے لی جائے گی۔وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت جلد ہی ہول سیل کاروبار، رئیل اسٹیٹ اور زراعت سے ریونیو وصول کرنے کی جانب بڑھے گی۔












