مونال کی لیز کا معاہدہ وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر ہوا اور یہ درست نہیں تھا، اٹارنی جنرل
اسلام آباد(غلام مرتضٰی )مونال ریسٹورنٹ کی لیز سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے معاہدہ اور اصل دستاویزات ایک ہفتے میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے پوچھا ہے کہ کتنی رقم طے ہوئی، کتنی کس اکاونٹ میں بھیجی گئی، اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا آر وی ایف ڈائریکٹوریٹ کا سی ڈی اے کیساتھ معاہدہ درست نہیں تھا.اٹارنی جنرل نے بتایا آر وی ایف ڈائریکٹوریٹ اور سی ڈی اے کے مابین لیز معاہدہ وفاقی حکومت کی اتھارائیزیشن کے بغیر ہوا،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی. عدالت نے تحریری حکم میںکہا ہے کہ نیشنل پارک ایریا میں کتنے ریسٹورنٹس ہیں، لیز کے معاہدے کب کب ہوئے،دیگر ریسٹورنٹس کتنا کرایہ ادا کرتے ہیں، لیز کی مدت کتنی ہے اور ریسٹورنٹس کے ساتھ معاہدوں کی کاپیاں بھی پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے،عدالت نے نیشنل پارک ایریا میں قائم تمام ریسٹورنٹس کی مکمل تفصیلات ایک ماہ میں فراہم کرنے کی ہدایات دیں اور سپریم کورٹ آفس تفصیلات آنے کے بعد ریسٹورنٹس کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے میں ملکیت کا ذکر تھا وہی ریکارڈ منگوایا .یکم اپریل 1910 کو 8683 ایکڑ آر ایف وی ڈی کو دی گئی ، چیف جسٹس نے پوچھا کہ یکم اپریل کا نوٹیفیکیشن کہاں ہے.اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ نوٹیفیکیشن ابھی پاس نہیں . چیف جسٹس نے پھر پوچھا کہ ہر چیز اسی نوٹیفیکیشن سے شروع اور ختم ہوگی .اگر نوٹیفیکیشن ہی نہیں تو پھر اپکا کیس ختم .اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نوٹیفیکیشن کی تفصیل ایسے بتا دیتا ہوں ، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایسی باتوں پر نہیں جاتے . نینشل پارک اراضی ملکیت کس کی ہے ؟اٹارنی جنرل نےبتایا کہ یہ اراضی وفاقی حکومت کی ملکیت ہے .آر وی ایف ڈی لیز معاہدہ ہونے پر چیک کس کو دیا گیا.چیک آر ایف وی ڈی کی اکاونٹ نام کا دیا گیا نمائندہ آر ایف وی ڈی کو چیک دیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ار وی ایف ڈی لیز ایگریمنٹ نہیں کرسکتی تھی . چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اچھا یا برا معاہدہ چھوڑیں ار وی ایف ڈی پیسے کیسے لے سکتی ہے ؟ مونال کے وکیل نے جوابدیا کہ آر وی ایف ڈی نے مونال سے معاہدے کیلئے خط لکھا .آر وی ایف ڈی کے خط پر سی ڈی اے کو 8 خطوط لکھے کوئی جواب نہیں آیا .چیف جسٹس نے کہا کہ اب آرمی نے ڈائریکٹوریٹ بنا لیا ہے .کیا غیر قانونی ادارہ ایسا کوئی معاہدہ کرسکتا تھا.اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ مونال سے معاہدہ کرنا درست نہیں تھا .عدالت کے علم میں لایا گیا نیشنل پارک کی حد بندی ہو رہی ہےحد بندی کا عمل مکمل ہونے کے بعد سی ڈی اے تفصیلات جمع کرائے،حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ نیشنل پارک آرڈیننس کو عوام کی تعلیم اور ریسرچ کیلئے دستیاب ہونا چاہیے، نیشنل پارک کو محفوظ بنانے کیلئے تمام فریقین اگر تجاویز دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، عدالت نے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردی












