مسائل کا حل مذاکرات میں مضمر ہے، مذکرات ملکی مفاد میں ہونے چاہئیں ناکہ ذاتی ایجنڈے کے حصول کیلئے، اسپیکر قومی اسمبلی

اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ ہاؤس کے مغلیہ گارڈن میں میگنولیا گرینڈی فلورا کا پودا لگا کر شجر کاری مہم کا آغاز کیا۔ اس موقع پر خطیب جامع مسجد پارلیمنٹ ہاؤس، مولانا احمد الرحمن نے ملک کی ترقی، خوشحالی اور موسمیاتی آفات سے محفوظ رہنے کے لیے خصوصی دعا کروائی۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت اور عوام کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کے ویژن کے مطابق اسلام آباد میں 10 لاکھ درخت لگانے کے وزارت داخلہ اور سی ڈی اے کے ہدف کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ بھی شجرکاری مہم میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔
پارلیمانی معاملات پر میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن نے ایوان میں ایک گھنٹہ 21 منٹ تک تقریر کی، لیکن باہر جا کر میڈیا کے سامنے کہتے ہیں کہ انہیں بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟۔اپوزیشن ایوان میں صرف چند منٹ آ کر احتجاج کرتی ہے اور پھر چلی جاتی ہے۔ عوامی مسائل کے حل سے اپوزیشن کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں جمع کرائے گئے عوامی اہمیت کے حامل تمام سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹسز کا مکمل ریکارڈ ایوان اور عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔ایوان کو قانون، قواعد و ضوابط اور پارلیمانی روایات کے مطابق چلاؤں گا اور کسی دباؤ میں نہیں آؤں گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کو جعلی اور غیر قانونی قرار دیتی ہے، مگر اسی پارلیمنٹ میں لیڈر آف اپوزیشن، چیئرمین پی اے سی، قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینز کے عہدے، تنخواہیں اور مراعات قبول کرنا انہیں قانون کے مطابق اور جائز لگتا ہے۔مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، اور مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، لیکن مذاکرات ملکی مفاد میں ہونے چاہئیں، نہ کہ ذاتی ایجنڈے کے حصول کے لیے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے دورِ حکومت کی روایات کو بھی دیکھوں گا اور انہی کے مطابق ایوان کو چلاؤں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمانی کمیٹی مذاکرات کے لیے قائم کی گئی تھی اور تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ مسائل کا حل افہام و تفہیم کے ساتھ نکالیں تاکہ ملک میں جمہوری استحکام برقرار رہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں