سیاستدانوں کی نااہلی تاحیات نہیں ہو گی، سپریم کورٹ کا فیصلہ، نواز شریف اور جہانگیر ترین سیاست میں اِن

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کا فیصلہ سناتے ہوئے تاحیات نااہلی ختم کر دی جس کے ساتھ ہی سابق وزیراعظم نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی بھی ختم ہو گئی۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے کیس میں تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد 5 جنوری کو فیصلہ محفوظ سنا دیا۔فیصلہ 6:1 کے تناسب سے جاری کیا گیا۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں کی نااہلی تاحیات نہیں ہو گی۔ عدالت کی معاونت کرنے والے تمام وکلاء کا شکر گزار ہوں۔اس سے پہلے 5 جنوری کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کیس میں ریمارکس دیے کہ تاحیات نااہلی اسلام کے خلاف ہے۔اپنے ریمارکس میں انہوں نے مزید کہا تھا کہ سارے معاملے کا حل اسلام میں موجود ہے۔قرآن پاک میں بتایا گیا ہے کہ انسان کا رتبہ بہت بلند ہے،انسان برا نہیں اس کے اعمال برے ہوتے ہیں،62 ون ایف انسان کو برا کہہ رہا ہے،اگر کوئی شخص گناہ سے توبہ کر لے تو معافی مل سکتی ہےدرخواست گزار فیاض احمد غوری اور سجادالحسن کے وکیل خرم رضا نے عدالتی دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ یہ کیس کس دائرہ اختیار پر سن رہی ہے؟ کیا آرٹیکل187 کے تحت اپیلیں ایک ساتھ سماعت کیلئے مقررکی گئیں۔چیف جسٹس پاکستان نے وکیل خرم رضا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی درخواست تک محدود رہیں، جس پر خرم رضا کا کہنا تھا عدالت مقدمے کی کارروائی 184/3 میں چلا رہی ہے یا 187 کے تحت؟ آرٹیکل 62 میں کورٹ آف لا کی تعریف نہیں بتائی گئی وکیل خرم رضا نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کی ڈکلیئریشن دینے کا اختیار الیکشن ٹربیونل کا ہے، آرٹیکل 62 ون ایف میں کورٹ آف لا درج ہے سپریم کورٹ نہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا بہتر ہوگا ہمیں الیکشن ٹربیونل کے اختیارات کی طرف نہ لیکر جائیں، آرٹیکل 62 ون ایف کورٹ آف لا کی بات کرتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں