پی ٹی سی ایل گروپ نے سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 3.1 ارب روپے کا منافع حاصل کرلیا
اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ): ملک کی صفِ اول کی ٹیلی کام و آئی سی ٹی سروسز کمپنی، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے 31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے مجموعی مالی نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ پی ٹی سی ایل گروپ نے سہ ماہی کے دوران مضبوط ترقی کی رفتار برقرار رکھی، جس سے پاکستان کی صفِ اول کی مربوط ٹیلی کام اور آئی سی ٹی سروسز فراہم کرنے والی کمپنی کے طور پر اس کی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی۔
پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ اور ٹیلی نار پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے مجوزہ انضمام کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ انضمام قابلِ اطلاق قوانین کے تحت ایک اسکیم آف ارینجمنٹ کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا۔ ٹیلی نار پاکستان کے کنٹرول کی منتقلی 31 دسمبر 2025 کو باضابطہ طور پر مکمل ہوئی، جس کے بعد ٹیلی نار پاکستان اور اس کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر پی ٹی سی ایل کی ملکیت میں آ گئے۔
اس کے بعد پی ٹی سی ایل نے پہلی سہ ماہی 2026 کے دوران انضمام کی منصوبہ بندی میں پیش رفت کی۔ یہ انضمام ایک مضبوط اور مؤثر ٹیلی کام پلیٹ فارم تشکیل دے گا، جس سے ملک بھر میں کوریج میں اضافہ، سروس کے معیار میں بہتری اور صارفین کی تعداد میں نمایاں بڑھوتری ہو گی، اور پی ٹی سی ایل کو پاکستان کے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل اور کنیکٹیویٹی منظرنامے میں ایک نمایاں مقام حاصل ہوگا۔ یکم جنوری 2026 سے ٹیلی نار پاکستان کے مالی نتائج کو پی ٹی سی ایل گروپ میں شامل کر لیا گیا ہے۔
پی ٹی سی ایل گروپ
• پی ٹی سی ایل گروپ کی مجموعی آمدن میں سال بہ سال 58 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ ٹیلی نار پاکستان کے نتائج کی پی ٹی سی ایل گروپ میں شمولیت اور فکسڈ براڈبینڈ، انٹرپرائز، ہول سیل اور موبائل سروسز میں مسلسل ترقی ہے۔
• مجموعی آپریٹنگ منافع میں 564 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جس کی وجہ ٹیلی نار پاکستان کی شمولیت، یوبینک کی مضبوط بحالی، یوفون کی مالی کارکردگی میں مسلسل بہتری اور پی ٹی سی ایل کے مضبوط آپریشنل نتائج رہے۔
• گروپ نے 3.1 ارب روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جو کہ گزشتہ سال اسی مدت میں رپورٹ ہونے والے 4 ارب روپے کے خالص نقصان کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے، جس کی بنیادی وجہ مضبوط آپریٹنگ منافع ہے۔
وائر لائن شعبہ
• پی ٹی سی ایل کی آمدن میں سال بہ سال 6.5 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ فلیش فائبر میں 27 فیصد اور بزنس سلوشنز میں 11فیصد ترقی رہی۔ کیریئر اور ہول سیل بزنس نے بھی سال بہ سال 14 فیصد اضافے کے ساتھ ترقی کی رفتار برقرار رکھی۔
• پی ٹی سی ایل نے 11 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب روپے کا آپریٹنگ منافع رپورٹ کیا ، جبکہ سہ ماہی کے دوران خالص منافع 0.9 ارب روپے رہا۔ وائرلیس شعبہ
• آمدن میں سال بہ سال 131 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ ٹیلی نار پاکستان کے نتائج کی شمولیت اور ریٹیل و کارپوریٹ دونوں شعبوں میں ترقی ہے۔
• کمپنی نے سال بہ سال 190 فیصد اضافےکے ساتھ 14.1 ارب روپے کا آپریٹنگ منافع حاصل ہوا، جس میں ٹیلی نار پاکستان کی شمولیت اور یوفون کی مالی کارکردگی میں مسلسل بہتری شامل ہے۔
• کمپنی کو گزشتہ سال اسی سہ ماہی میں 1.3 ار ب روپے کے خالص نقصان کے مقابلے میں اس سہ ماہی میں2.7 ارب روپے کا خالص منافع حاصل ہوا، جو مضبوط آپریشنل نتائج اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کا نتیجہ ہے۔
بینکنگ شعبہ
• یوبینک نے 5.8 ارب روپے کی آمدن حاصل کی، جبکہ اس کا منافع گزشتہ مدت کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہوا، جو بینکاری آپریشنز میں مضبوط بحالی کی عکاسی کرتا ہے۔
آپریشنل جھلکیاں
اپنی تبدیلی کے سفر کے تحت پی ٹی سی ایل گروپ نے پہلی سہ ماہی 2026 میں پاکستان کی تاریخی 5G نیلامی میں نمایاں اسپیکٹرم حاصل کیا۔ اس اہم سنگِ میل کے حصول سے کمپنی جدید ترین کنیکٹیویٹی کے حوالے سے صفِ اول میں آ گئی۔ عالمی سطح پر تسلیم شدہ 3.5 گیگا ہرٹز اور 2.6 گیگا ہرٹز بینڈز میں اعلیٰ صلاحیت کے حامل اسپیکٹرم کے حصول سے پی ٹی سی ایل گروپ صارفین اور انٹرپرائز دونوں شعبوں میں انتہائی تیز رفتاربلا تاخیر اور جدید ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ جاری انضمام کے بعد اس اسپیکٹرم کو یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے مشترکہ نیٹ ورک میں استعمال کیا جائے گا، جس سے 72 ملین سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کرنے والا ملک کا سب سے بڑا اسپیکٹرم پورٹ فولیو تشکیل پائے گا ۔ اس سے پی ٹی سی ایل گروپ کو ملک بھر میں 5G کے پھیلاؤ کی رفتار تیز کرنے، نیٹ ورک کی کارکردگی بہتر بنانے اور مختلف صنعتوں میں نئے ڈیجیٹل استعمالات کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی، اور پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی تشکیل میں اس کی قیادت مزید مضبوط ہوگی۔
پی ٹی سی ایل نے پہلی سہ ماہی میں فلیش فائبر کا بہتر پورٹ فولیو متعارف کرایا، جس میں ابتدائی رفتار 30 ایم بی پی ایس سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اقدام براڈبینڈ کے بنیادی معیار کو بہتر بنانے اور صارفین کی بدلتی ہوئی ڈیجیٹل ضروریات کے مطابق خدمات فراہم کرنے کے اسٹریٹجک عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
پی ٹی سی ایل گروپ نے پہلی سہ ماہی 2026 میں مضبوط کارکردگی برقرار رکھی، جبکہ ثقافت، کمیونٹی اور صارفین کی دلچسپی سے ہم آہنگ اسٹریٹجک کیمپینز کے ذریعے برانڈ کی نمایاں موجودگی اور عوامی شمولیت کو مزید مضبوط بنایا گیا۔ عالمی یومِ تعلیم کے موقع پر پی ٹی سی ایل نے شہزاد رائے کے ساتھ ایک بامقصد مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد تعلیمی کامیابی کے نام پر بچوں پر پڑنے والے دباؤ کو اجاگر کرنا اور قومی سطح پر عہد کے ذریعے تعلیم کے لیے ایک متوازن اور ہمدردانہ نقطہ نظر کو فروغ دینا تھا۔
یوفون نے ’’سپر 5‘‘ مہم بھی متعارف کرائی، جس میں شامل اسٹار کرکٹر بابر اعظم نے کمپنی کے ’’ڈیٹا بہت ہے ‘‘ پیغام کو مضبوطی سے پھیلایا۔ یہ مہم پانچ صارفین تک کے لیے مشترکہ کنیکٹیویٹی آفر پر مبنی تھی۔ اس مہم نے 91 ملین سے زائد امپریشنز، 15 ملین ریچ اور 10 ملین ویوز حاصل کرکے نمایاں کامیابی حاصل کی ۔ یوفون نے پاکستان سپر لیگ کے دوران پشاور زلمی مہم کے ذریعے بھی اپنی برانڈ موجودگی کو مزید مستحکم کیا، جس میں ترانے ، برانڈڈ انٹیگریشنز اور شائقین کی شمولیت کے تجربات شامل تھے، جس سے ثقافتی وابستگی اور صارفین کی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔
پہلی سہ ماہی 2026 میں یوفون نے ڈیجیٹل ری چارج کے شعبے میں مارکیٹ لیڈر کے طور پر اپنی مثبت پیش رفت جاری رکھی، جہاں ڈیجیٹل ری چارج کی قدر میں سال بہ سال 11 فیصد اضافہ ہوا۔ ڈیجیٹل سم کی فروخت میں بھی سال بہ سال 21 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان دونوں کامیابیوں میں کمپنی کے اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ’سیلف کیئر ایپ‘، ’ویب سائٹ‘ اور’بوٹ‘ کے ساتھ ساتھ یوفون کے وسیع تر ڈیجیٹل پارٹنر نیٹ ورک کے ساتھ اشتراک کا اہم کردار رہا۔
یو پیسہ نے مؤثر کسٹمر ایکوزیشن اور والیٹ کے استعمال میں اضافے کے باعث سال بہ سال 42 فیصد مضبوط ترقی ریکارڈ کی۔
بزنس سلوشنز کے شعبہ نے بھی مضبوط کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھا، جہاں کلاؤڈ، ڈیٹا سینٹرز، مینیجڈ سروسز اور سائبر سیکیورٹی سلوشنز سمیت آئی سی ٹی سروسز کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ پی ٹی سی ایل نے حکومتی اور انٹرپرائز صارفین کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کی۔ ٹیلی نار پاکستان کی ریٹیل آمدن میں اضافہ اے آر پی یو میں بہتری اور صارفین کی جانب سے زیادہ مدت کے حامل بڑے ڈیٹا بنڈلز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ہوا۔ پہلی سہ ماہی کے دوران صارفین کی تعداد میں 1.7 فیصد اضافہ ہوا، جس میں معیاری اور ڈیٹا استعمال کرنے والے صارفین پر خصوصی توجہ دی گئی۔ گیمنگ سم کے ذریعے نئے صارفین کو خدمات کے دھارے میں لایا گیاجس سے زیادہ ڈیٹا استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا اور ان کی تعداد برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
ڈیجیٹلائزیشن بدستور ایک اہم ترجیح رہی، جہاں ’مائی ٹیلی نار ایپ‘ کا استعمال مسلسل بڑھتا رہا۔ صارفین کے تجربے میں بہتری کے لیے ایپ کے یوزر انٹرفیس کو ازسرِ نو ڈیزائن کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایپ صارفین کی تعداد میں سال بہ سال 18 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی دوران ڈیجیٹل ڈسٹری بیوشن سے متعلق متعدد اقدامات جاری رہے، جس کے باعث ڈیجیٹل ری چارج میں سال بہ سال 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کسٹمر کیئر میں ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے لیے واٹس ایپ چیٹ چینل کے آغاز نے بھی اہم کردار ادا کیا، جس سے ڈیجیٹل صارفین کے تجربے اور شکایات کے ازالے میں بہتری آئی۔
ٹیلی نار پاکستان نے کامیابی کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی یک مشت مائیگریشن مکمل کی، جس کے تحت مکمل فعال صارفین کو کلاؤڈ بیسڈ، 5G سے ہم آہنگ چارجنگ اور بلنگ سسٹم پر منتقل کیا گیا، جس سے تیز تر اور زیادہ قابلِ توسیع ڈیجیٹل بنیاد کے لیے 100 سے زائد اے پی آئیز دستیاب ہوئیں۔ مصنوعی ذہانت کا فروغ ہماری حکمت عملی کا ایک اہم ستون رہا، جس کے تحت انڈس اے آئی ویک 2026 میں اے آئی سے چلنے والے اسٹارٹ اپس کو پیش کیا گیا، جبکہ گوگل اور سرکاری اداروں کے اشتراک سے “اے آئی سیکھو” کا آغاز کیا گیا تاکہ ملک بھر میں اے آئی کی تعلیم کو عام کیا جا سکے۔
سماجی اثرات
اس سہ ماہی کے دوران، پی ٹی سی ایل نے شمولیت، عوامی صحت اور بنیادی ضروریات پر مرکوز متعدد اقدامات کے ذریعے اپنے سماجی اثرات کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔ بااختیار پروگرام کے تحت 22 اضلاع میں تربیتی سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا، جس کے ذریعے تقریباً 2,100 خواتین کو ڈیجیٹل اور کاروباری مہارتوں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
یونیسف کے اشتراک سے پولیو آگاہی کے لیے ایس ایم ایس مہمات چلائی گئیں، جبکہ رمضان کے دوران مختلف فلاحی تنظیموں کو ان کی آگاہی اور انسانی ہمدردی کی مہمات کے لیے اسی نوعیت کی معاونت فراہم کی گئی۔ ان اقدامات کے ساتھ ساتھ، پی ٹی سی ایل کا واٹر پروجیکٹ جنوبی پنجاب اور تھر میں جاری ہے، جس کا مقصد پانی کی کمی کے شکار علاقوں میں تقریباً 150,000 افراد کو صاف پینے کے پانی تک مسلسل رسائی فراہم کرنا ہے۔












