تہران ، حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اسرائیلی حملے میں شہید

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے۔پاسدران انقلاب اور حماس نے شہادت کی تصدیق کر دی ہے ، اسماعیل ہنیہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے تہران میں موجود تھے، اسرائیل نے ان کی قیام گاہ پر میزائل حملہ کرکے شہید کر دیا۔حملے میں اسماعیل ہنیہ کا ایک محافظ بھی شہید ہو گیا ، ایران کا کہنا ہے کہ حملے کی تحقیقات کے نتائج جلد سامنے لائے جائیں گے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وقت کے مطابق رات تقریباً 2 بجے تہران میں ایک میزائل فائر کیا گیا، تہران کے قلب میں میزائل وہاں فائر کیا جہاں اسماعیل ہنیہ اپنے محافظ سمیت موجود تھے۔
دوسری جانب حماس نے حملے کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے، حماس کے عہدیدار سمی ابو زہری نے کہا ہے کہ بیت المقدس کی آزادی کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں ، ہم کوئی بھی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔واضح رہے چند ماہ قبل غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملے میں اسماعیل ہنیہ کے 3 بیٹے اور 4 پوتے پوتیاں اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔اسماعیل ہنیہ 1962 میں غزہ کے مغرب میں پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے ،غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے 1987 میں عربی ادب میں ڈگری اور 2009 میں اسلامی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کی۔اسماعیل ہنیہ خالد مشعل کی جگہ 2017 میں حماس کے سربراہ منتخب ہوئے ،یونیورسٹی میں حماس کے طلباء گروپ اسلامک بلاک سے وابستہ تھے۔اسماعیل ہنیہ کو اسرائیلی فورسز نے پہلی بار 1987 دوسری بار 1988ء میں حراست میں لیا ، 1989 میں ان کی تیسری بار گرفتاری عمل میں لائی گئی ،مسلسل 3 سال اسرائیلی جیلوں میں قید رہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں