ایل ڈی آئی کمپنیز، وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کی ملی بھگت بے نقاب

اسلام آباد (غلام مرتضی) وزارت آئی ٹی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی ملی بھگت سے ایل ڈی آئی (لانگ ڈسٹنس اینڈ انٹرنیشنل) کمپنیوں کو بغیر فیس اور بغیر لائسنس کام کرنے کی اجازت دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ سات ایل ڈی آئی کمپنیاں گزشتہ کئی ماہ سے بغیر لائسنس آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ ان پر 58.9 ارب روپے کے بقایاجات واجب الادا ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے ان کمپنیوں سے واجب الادا 58.9 ارب روپے وصول کرنے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔
یہ رقم 16.7 ارب روپے کی اصل واجبات اور 42.2 ارب روپے کے سرچارج پر مشتمل ہے۔ حکومت کی مسلسل ناکامی اور بے ضابطگیوں کے باعث وزیراعظم نے اس معاملے کا نوٹس لیا اور سیکرٹری آئی ٹی کو عہدے سے ہٹا دیا.لاء ڈویژنے بھی نادہندہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کو مزید لائسنس جاری نہ کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن اس کے باوجود وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے نے معاملہ حل نہیں کیا.
ان نادہندہ کمپنیوں میں شامل ہیں:
✅ ورلڈ کال ٹیلی کام
✅ وطین ٹیلی کام
✅ٹیلی کارڈ
✅ ڈینکام پاکستان
✅ ریڈٹون ٹیلی کمیونیکیشن پاکستان
✅ وائز کمیونیکیشن
✅ سرکل نیٹ کمیونیکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کے درمیان بقایاجات کے معاملے پر تنازعہ جان بوجھ کر طول دیا جا رہا ہے، تاکہ نادہندہ کمپنیاں بغیر ادائیگی کے اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔ اس مالی بدعنوانی اور ریگولیٹری ناکامی کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان کمپنیوں سے واجبات کی وصولی کے لیے کوئی عملی اقدام کرتی ہے یا نہیں۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں