اسلام آباد میں تعمیراتی صنعت بحران کا شکار، پرانے ریٹس فوری بحال کیے جائیں، چوہدری نصیر احمد
اسلام آباد ( زاہد یعقوب خواجہ) اسلام آباد بلڈر اینڈ ڈویلپر ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری نصیر احمد نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تعمیراتی شعبے کی ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری ’ریلیف پیکج‘ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو شہر میں تعمیراتی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہو جائیں گی۔
اپنے ایک بیان میں چوہدری نصیر احمد نے کہا کہ سابقہ دور میں فلور ایریا ریشو کے ریٹس جو 900 روپے فی مربع فٹ تھے، انہیں اچانک بڑھا کر 12,000 روپے کر دیا گیا ہے۔ یہ ہوشربا اضافہ تعمیراتی صنعت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انہوں نے ہوٹل انڈسٹری کے لیے پرانے ریٹس بحال کیے، اسی طرح کمرشل اور رہائشی اپارٹمنٹس کے لیے بھی 2020-21 کی پالیسی اور ریٹس کو فی الفور بحال کیا جائے تاکہ رکے ہوئے منصوبے دوبارہ شروع ہو سکیں۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے عالمی حالات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اس وقت دبئی کے حالات اور دیگر بین الاقوامی وجوہات کی بنا پر اوورسیز پاکستانی اپنا سرمایہ محفوظ مقامات پر منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر حکومت تعمیراتی شعبے کو سہولیات اور مراعات فراہم کرے تو امریکہ اور خلیجی ممالک میں بیٹھے پاکستانی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان لا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ اکیلا نہیں بلکہ اپنے ساتھ 40 سے زائد دیگر صنعتوں کو چلاتا ہے، اس لیے اسے اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
چوہدری نصیر احمد نے ایف بی آر اور ڈی سی ریٹس میں حالیہ اضافے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں پلاٹ 15 سے 16 ہزار روپے میں بک رہا ہے، وہاں سرکاری ریٹ 50 ہزار روپے لگا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ٹرانزیکشنز مکمل طور پر رک گئی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان ریٹس کو فوری طور پر پرانی سطح پر لایا جائے تاکہ مارکیٹ میں پیسے کی گردش شروع ہو سکے۔
چیئرمین نے سی ڈی اے کے ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے کو بااختیار بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم دیکھتے ہیں کہ ڈی ایچ اے نے مارگلہ انکلیو جیسے منصوبوں پر کس تیزی سے کام کیا ہے، جبکہ سی ڈی اے کے سیکٹرز سالہا سال سے التوا کا شکار ہیں۔” انہوں نے تجویز دی کہ سی ڈی اے کی فیصلہ سازی کی قوت کو بہتر بنایا جائے تاکہ بلڈرز اور ڈویلپرز کے مسائل کیس ٹو کیس بنیادوں پر فوری حل ہو سکیں۔
چوہدری نصیر احمد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بطور چیئرمین بلڈر اینڈ ڈویلپر ایسوسی ایشن وہ ملک کی معاشی بہتری کے لیے اپنی تجاویز حکومت کو پیش کرتے رہیں گے تاکہ تعمیراتی شعبہ ایک بار پھر ملکی ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکے۔











